اسرائیلی شہر بیت شمیش کی آبادی میں خوفناک نظریاتی تقسیم

تقسیم متنازعہ اسرائیلی ریاست کو مزید تنازعات کیطرف دھکیل سکتی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

بیت شمیش کی مئیر شپ کیلیے متنازع ترین انتخابی عمل نے شہر کو مذہبی اور سیکولر بنیادوں پر واضح طور پر تقسیم کر دیا ہے۔ شہر کے معتدل سمجھے جانے والے یہودیوں نے انتہا پسند اسرائیلیوں کے خلاف احتجاج کی تیاری شروع کر دی ہے۔

واضح رہے شہر کے اعتدال پسند مئیر شپ کیلیے نئے انتخاب کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔ اعتدال پسندوں کا یہ مطالبہ پورے اسرائیل کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے کہ اسرائیل ایک یہودی ریاست بنانے یا ایک کثرت پسند جمہوریت بنے گی۔

بیت شمیش کی ایک 56 سالہ رہائشی ایتی آموس جس کا خاندان مراکش سے نقل مکانی کر کے اسرائیل آیا تھا کا اس بارے میں کہنا ہے'' کہ اس کے تین بچوں نے اس شہر کو چھوڑ دیا ہے کیونکہ شہر کا مستقبل مخدوش نظر آرہا ہے۔''

واضح رہے عمومی طور پر سمجھا یہ جاتا ہے کہ اسرائیل میں انتہاپسند مذہبی عناصر دس فیصد ہیں لیکن وہ ملک میں ایک ایسا طرز زندگی لانا چاہتے ہیں جو عبادات کے گرد گھومتا ہے اور ایک دقیا نوسی کلچر غالب کرنا چاہتے ہیں۔

واضح رہے بیت شمیش مقبوضہ یروشلم کے مغرب میں واقع ایک لاکھ کی آبادی پر مشتمل شہر ہے۔ اس کی آبادی انتہا پسند یہودیوں اور نسبتا اعتدال پسندوں میں تقریبا برابر برابر تقسیم ہے۔

نقل مکانی کے بعد اس شہر میں بسائے جانے والوں میں امریکا اور روس دونوں کا پس منظر رکھنے والے یہودی شامل ہیں۔ اس پیدا شدہ نظریاتی اور سیاسی جھگڑے کے اثرات قریبی آبادیوں میں بھی منتقل ہو رہے ہیں۔

مئیر شپ کے حالیہ انتخاب کے دوران ہر طرح کے انتخابی جعلسازیوں کے واقعات اور الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔ اس کی ایک وجہ دونوں یہودی طبقات میں نظریاتی، سماجی اور سیاسی اعتبار سے غیر معمولی حد تک موجود خلیج ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں