مراکش نے الجزائر سے اپنا سفیر واپس بلا لیا

انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر الجزائری موقف سبب بنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مراکش نے الجزائر سے اپنا سفیر واپس بلا لیا ہے۔ مراکش نے یہ فیصلہ الجزائر کے صدر عبدالعزیز کا یہ موقف سامنے آنے پر کیا ہے کہ مغربی صحارا میں انسانی حقوق کی مانیٹرنگ پہلے سے زیادہ کرنے کی ضرورت ہے۔

مراکش کے سرکاری خبر رساں ادارے '' ایم اے پی'' نے اس مراکشی فیصلے کو رپورٹ کرتے ہوئے مراکش کا موقف بیان کیا ہے کہ الجزائر علیحدگی پسندوں کی حمایت اپنے توسیع پسندانہ مقاصد کیلیے کرتا ہے تاکہ علاقے میں اپنی بالا دستی قائم کر سکے.

خبر رساں ادارے کی رپورٹ میں یہ بھی الزام لگایا ہے کہ الجزائر اپنے ہاں ہر روز ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹانے کیلیے مغربی صحارا کی صورتحال کا سہارا لے رہا ہے۔

اس سے پہلے ہفتے کے روز مراکش کی قوم پرست استقلال پارٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ الجزائر کے قبضے سے مراکش کا جنوب مغربی علاقہ واگزار کرایا جائے۔ اس پر الجزائر کے وزیر خارجہ نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ''مراکش کی قوم پرست جماعت کے یہ خیالات غیر ذمہ دارانہ اور نا قابل قبول ہیں، مراکش کو صبر سے کام لینا چاہیے۔''

الجزائر کے صدر کا تازہ بیان اپریل میں پیش کردہ اس امریکی تجویز کے حوالے سے ہے جو امریکا نے صحارا میں اقوام متحدہ کا امن مشن بھجوانے کے حوالے سے پیش کی تھی، تاکہ صحارا میں انسانی حقوق کی مانیٹرنگ کی جا سکے ، لیکن مراکش نے اسے ماننے سے انکار کر دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں