اسرائیل کا آبادکاروں کے لیے مزید 3360 مکانوں کی تعمیر کا منصوبہ

یورپی یونین کی نئے منصوبے پرتنقید،غیرقانونی تعمیرات منہدم کرنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیل دریائے اردن کے مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں کے لیے مزید تین ہزار تین سو ساٹھ مکانوں کی تعمیر کی منصوبہ بندی کررہا ہے۔

اسرائیلی روزنامے ہارٹز نے اپنی جمعرات کی اشاعت میں انتہاپسند صہیونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ پارٹی کے ایک رکن پارلیمان کے حوالے سے اس نئے منصوبے کی اطلاع دی ہے۔

اخبار نے لکھا ہے کہ ''نین یاہو کی حکومت مشرقی القدس اور مغربی کنارے میں قریباً پانچ ہزار نئے مکانوں کی تعمیر کے منصوبے کو آگے بڑھائے گی اور یہ اقدام اسی ہفتے فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے بدل میں ازالے کے طور پر کیا جارہا ہے''۔

ان اعدادوشمار میں مقبوضہ مشرقی القدس میں تعمیر کیے جانے والے پندرہ سو نئے مکان بھی شامل ہیں۔اسرائیل نے طویل عرصے سے قید 26 فلسطینیوں کی بدھ کو رہائی کے فوری بعد یہودی آبادکاروں کے لیے ان نئے مکانوں کی تعمیر کا اعلان کیا تھا۔

اب اخبار کی رپورٹ میں مزید تین ہزار تین سو ساٹھ نئے مکانوں کی تعمیر کے منصوبے کی اطلاع دی گئی ہے۔تاہم اس منصوبے پر مختلف حکومتی مراحل سے گزرنے کے بعد عمل درآمد کیا جائے گا۔

درایں اثناء یورپی یونین نے اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی القدس میں یہودی آبادکاروں کے لیے مکانوں کی تعمیر کے نئے منصوبے پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ یہودی آباد کاری بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین آشٹن نے ایک بیان میں کہا:''میں یہ یاددہانی کرانا چاہوں گی کہ 27 ستمبر کو مشرق وسطیٰ کے بارے میں گروپ چار نے تمام فریقوں پر زوردیا تھا کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جن سے اعتماد کو ٹھیس پہنچ سکتی ہو یا حتمی حیثیت پر کوئی فرق پڑسکتا ہو''۔

انھوں نے کہا کہ ''یورپی یونین متعدد مرتبہ یہ واضح کرچکی ہے کہ یہودی بستیاں بین الاقوامی قانون کے تحت غیرقانونی ہیں۔وہ اسرائیل سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ یہودی آبادکاری سے متعلق تمام سرگرمیوں کو روک دے اور مارچ 2001ء کے بعد فلسطینی علاقوں میں کی گئی تعمیرات کو منہدم کردے''۔

مس آشٹن نے کہا کہ ''یورپی یونین یہودی آبادکاروں کے لیے نئے اعلانات پر افسوس کا اظہار کرتی ہے۔ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کیا جانا چاہیے جو مذاکرات کے جاری عمل پر اثرانداز ہوسکتا ہو''۔

واضح رہے کہ اسرائیل مقبوضہ بیت المقدس کو اپنا دائمی اورناقابل تقسیم دارالحکومت قراردیتا ہے جبکہ فلسطینی اسے اپنی مستقبل میں قائم ہونے والی مجوزہ ریاست کا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں.اسرائیل نے 1967ء کی جنگ میں اس شہر پر قبضہ کیا تھا اور 1982ء میں اسے اپنی ریاست میں ضم کرلیا تھا لیکن اس کے اس اقدام کو عالمی برادری نے تسلیم نہیں کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں