.

جیش الحر کا جھڑپوں کے بعد حلب کی اہم بلدیہ سے انخلا

شہر پر ایک ماہ بشار الاسد کی فوج شدید گولا باری کرتی رہی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں بشار الاسد کے خلاف نبرد آزما جنگجوٶں پر مشتمل جیش الحر نے ایک ماہ تک سرکاری فوج کے ساتھ جاری لڑائی کے بعد حلب شہر کے مشرق میں واقع اسٹرٹیجک اہمیت کے شہر السفیرہ سے واپسی اختیار کر لی ہے۔ العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق انخلاء کے بعد سرکاری فوج نے فیصلہ کن کارروائی کرتے ہوئے شہر کا مکمل کنڑول حاصل کر لیا ہے۔

اپوزیشن جنگجوٶں کے ترجمان میڈیا سیل کے مطابق جمعرات کے روز السفیرہ شہر سے باغیوں کے انخلاء کے بعد ایک ماہ سے سرکاری فوج کی علاقے پر جاری باقاعدہ گولا باری کا سلسلہ ختم ہو گیا ہے۔ اپوزیشن کو ایک سال اس شہر پر مکمل کنڑول حاصل رہا، جو اب دوبارہ بشار الاسد کی فوج کے کنڑول میں چلا گیا ہے۔

مبصرین کا خیال ہے کہ بشار الاسد کو سیاسی میدان میں اگرچہ ناکامی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے تاہم دوسری جانب ان کے حامی فوجی محاذ پر بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ حکومت مخالف کارکنوں کے مطابق السفیرہ پر کنڑول حاصل کرنے کے لئے اسد نواز فوج نے الحجر الاسود سمیت بلدیہ کی جنوبی کالونیوں پر زمین سے زمین تک مار کرنے والے میزائل استعمال کئے جس کے نتیجے میں عام شہریوں کی بڑی تعداد ہلاک و زخمی ہوئی۔

اپوزیشن ذرائع نے بتایا کہ سرکاری فوج نے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت شہر کو گولا باری کا نشانہ بنایا، بلا امتیاز گولا باری میں عمارتوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا۔ گولے داغنے والی شامی فوج نے یہ جاننے کی تکلیف گوارا نہیں کی کہ ان کی توپوں کا نشانہ بننے والی عمارتوں میں عام میں شہری قیام پذیر ہیں یا پھر انہیں مسلح جنگجو اپنے ٹھکانے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔

ادھر شام سے لائیو نیٹ ورک نے دعوی کیا ہے کہ بشار مخالف جنگجوٶں نے لبنانی تنظیم حزب اللہ سے تعلق رکھنے والے بعض افراد کو گرفتار کیا ہے۔ شام لائیو نیٹ ورک کے مطابق حراست میں لئے جانے والے حزب اللہ کے مبینہ کارکنوں کو دمشق کے نواحی علاقے السیدہ زنیب میں جاسوسی اور ٹارگٹ کلنگ کا مشن سونپا گیا تھا۔

درایں انقلابیوں کی جنرل کمان کونسل نے دمشق کے مضافاتی علاقے الغوطہ الغربیہ میں المعضمیہ کے شمالی اور مشرقی محاذوں پر اس وقت دوبارہ جھڑپوں کے شروع ہونے کی تصدیق کی ہے جب سرکاری فوجیوں نے شہر میں داخلے کے کوشش کی۔