ڈاکٹر مرسی کے ٹرائل سے قبل ہزاروں مصریوں کے ملک گیر مظاہرے

دوسرے بڑے شہر اسکندریہ میں فوج کے حامی اور مخالف مظاہرین کے درمیان جھڑپیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

مصر میں برطرف صدر محمد مرسی کے ہزاروں حامیوں نے ان کے ٹرائل سے تین روز قبل مسلح افواج اور حکومت کے خلاف ملک گیر احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔

ملک کے دوسرے بڑے شہر اسکندریہ میں ڈاکٹر مرسی کی حامی اکیس طالبات کی گرفتاری کے بعد اخوان المسلمون کی قیادت میں حزب اختلاف نے اپنے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔العربیہ ٹیلی ویژن کی رپورٹ کے مطابق فوج کے حامیوں اور مخالفین نے الگ الگ مظاہرے کیے ہیں اور ان کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔

شہرکےعلاقے سیدی بشر میں متحارب مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ختم کرانے اور مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔سکیورٹی فورسز نے چالیس سے زیادہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

دارالحکومت قاہرہ کے علاقوں جیزہ، معدی، شبرہ اور دوسرے مقامات پرنماز جمعہ کے بعد ہزاروں مصریوں نے ڈاکٹر مرسی کے حق میں اور مسلح افواج اورعبوری حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔ قاہرہ کے علاقے جسر السویز میں بھی سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات ملی ہیں۔

مصر کی سرکاری خٖبررساں ایجنسی مینا کی اطلاع کے مطابق نیل ڈیلٹا کے شہر ذقاذق میں مرسی کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان جھڑپوں میں پانچ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔العربیہ کے نمائندے محمد کمال نے بتایا ہے کہ مظاہرین نے مصری فوج اور سکیورٹی فورسز کے خلاف سخت نعرے بازی کی ہے۔

ڈاکٹر محمد مرسی کے خلاف سوموار 4نومبر سے دسمبر 2012ء میں صدارتی محل کے باہر مظاہرین کی ہلاکتوں کے الزام میں مقدمہ چلایا جارہا ہے۔ان کے علاوہ چودہ اور مدعا علیہان کے خلاف بھی یہ مقدمہ چلایا جائے گا۔

برطرف صدرکے خلاف سنہ2011ء کے اوائل میں سابق مطلق العنان صدر حسنی مبارک کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک کے دوران جیل سے فرار کی بھی تحقیقات کی جارہی ہے۔

مصر کی وزارت داخلہ کے حکام کا کہنا ہے کہ قاہرہ کے جنوب میں واقع پولیس اکیڈیمی میں ڈاکٹر مرسی کے خلاف مقدمے کی سماعت کے موقع پر قریباً بیس ہزار پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا جائے گا۔

دوسری جانب اخوان المسلمون کی قیادت میں فوجی انقلاب مخالف اتحاد نے سوموار کو پولیس اکیڈمی کے باہر ایک بڑی ریلی نکالنے کا اعلان کیا ہے۔اخوان المسلمون سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹرمرسی کے ہزاروں حامی ان پرمقدمہ چلائے جانے کے خلاف گذشتہ کئی ہفتوں سے احتجاج کررہے ہیں۔

مصری سکیورٹی فورسز نے ڈاکٹر مرسی کو 3 جولائی کو مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی کے ہاتھوں ان کی برطرفی کے بعد سے کسی نامعلوم مقام پر قید کر رکھا ہے۔ان کے حامیوں اور اخوان المسلمون کے کارکنان کے خلاف سکیورٹی فورسز کے کریک ڈاؤن میں ایک ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ اخوان ان ہلاکتوں کی تعداد دو ہزار سے زیادہ بتاتی ہے۔ مصری سکیورٹی فورسز نے احتجاجی مظاہروں میں حصہ لینے کی پاداش میں دو ہزار سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا ہے۔ان میں اخوان کی کم وبیش تمام قیادت شامل ہے۔ان کے خلاف اب مختلف الزامات کے تحت عدالتوں میں مقدمات چلائے جا رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں