.

بشارالاسد کا استعفیٰ مذاکرات کے لیے پیشگی شرط نہیں:قدری جمیل

اجازت لے کر باہر گیا،صدر کو بیرون ملک سرکاری ملاقاتوں سے آگاہ کر دیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بین الاقوامی فریقوں نے مجوزہ جنیوا دوم امن کانفرنس سے قبل صدر بشارالاسد پر مستعفی ہونے کے لیے دباؤ نہ ڈالنے سے اتفاق کیا ہے۔

یہ بات شام کے برطرف نائب وزیراعظم قدری جمیل نے جمعہ کو العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہی ہے۔انھوں نے اپنی برطرفی کے حوالے سے بتایا کہ ''میں نے اپنے صدر (بشارالاسد) کو آگاہ کیا تھا کہ میں سرکاری ملاقاتوں کے سلسلہ میں ملک سے باہر جارہا ہوں''۔

انھوں نے اس بات کی بھی تردید کی کہ وہ حکومت کی اجازت کے بغیر اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے تھے۔واضح رہے کہ صدر بشارالاسد نے قدری جمیل کو ''محب وطن اپوزیشن'' کا حصہ قراردیا تھا جو ان کے بہ قول حکومت کے تو مخالف ہیں مگر انھوں نے دوسرے باغی گروپوں کی طرح شامی فورسز کے خلاف ہتھیار نہیں اٹھائے تھے اور موجودہ بعث پارٹی کی حکومت کے زیرسایہ ہی کام کرنے سے اتفاق کیا تھا۔

قدری جمیل نے اگست میں دورۂ روس کے موقع پر کہا تھا کہ ''مذاکرات کے لیے بشارالاسد کے مستعفی ہونے کی شرط کا مطلب یہ ہوگا کہ ان مذاکرات کو شروع ہونے سے قبل ہی ختم کردیا گیا ہے لیکن مذاکرات کی میز پر اس ایشو سمیت کسی بھی تجویز پر بات کی جاسکے گی''۔

روسی روزنامے کمر سانت نے لکھا ہے کہ قدری جمیل کو اسد رجیم نے اس شُبے کے بعد برطرف کیا ہے کہ وہ خود کو روس اور امریکا کے سامنے بشارالاسد کے متبادل کے طور پر پیش کررہے تھے اور وہ شام میں حزب اختلاف کی عبوری حکومت کے ایک بہتر قائد کے طور پر بھی خود کو متعارف کرارہے تھے۔

بشارالاسد نے گذشتہ منگل کو قدری جمیل کو مبینہ طور پر ڈیوٹی سے غیر حاضری اور بغیر اجازت ملک سے باہر جانے پر نائب وزارت عظمیٰ کے منصب سے ہٹا دیا تھا۔شام کے سرکاری میڈیا کے مطابق وہ حکومت کے علم میں لائے بغیر ملک سے باہر چلے گئے اورانھوں نے مبینہ طور پر سوئٹزر لینڈ میں امریکی حکام سے ملاقاتیں کی تھیں۔

انھوں نے گذشتہ ہفتے کے روز جنیوا میں شام کے لیے امریکی سفیر رابرٹ فورڈ سے ملاقات کی تھی لیکن یہ نتیجہ خیز نہیں رہی تھی۔انھوں نے جنیوا مذاکرات سے متعلق ایسی تجاویز پیش کی تھیں جنھیں امریکی سفیر پہلے ہی ناقابل عمل تصور کرتے تھے۔وہ جنیوا مذاکرات میں حزب اختلاف کی جانب سے شریک ہونا چاہتے تھے لیکن اس ضمن میں وہ امریکی حمایت کے حصول میں ناکام رہے تھے۔

رابرٹ فورڈ نے جمعرات کو سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ روس کے ساتھ صدر بشارالاسد کی رخصتی کے حوالے سے ایشو پر سمجھوتا طے پاگیا ہے اور مجوزہ جنیوا مذاکرات میں اس معاملے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔