.

القلمون کی جنگ کے لیے شام میں حزب اللہ کے 15 ہزار جنگجو تیار

شامی فوج کی بھاری نفری دمشق اور حمص کے درمیان واقع علاقے میں تعینات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ نے شامی دارالحکومت دمشق کے شمال میں واقع پہاڑی علاقے القلمون میں باغیوں کے ساتھ ممکنہ لڑائی کے لیے اپنے پندرہ ہزار جنگجو تعینات کردیے ہیں۔

شامی حزب اختلاف کے ذرائع نے العربیہ کو بتایا ہے کہ شامی رجیم بھی دمشق اور حمص شہر کے درمیان واقع علاقے میں اپنی فورسز کو تعینات کررہا ہے اور اس نے وہاں فوجی سازوسامان کے ساتھ بھاری نفری بھیج دی ہے۔

واضح رہے کہ حزب اللہ نے گذشتہ موسم بہار میں لبنان کی سرحد کے نزدیک واقع شہر القصیر پر شامی فوج کے دوبارہ قبضے میں مدد کی تھی۔حزب اللہ کا کہنا ہے کہ وہ لبنان کی سرحد کے ساتھ واقع علاقے میں شیعہ آبادی کو مسلح سنی باغیوں کے مبینہ حملوں سے بچانے کے لیے مداخلت کررہی ہے۔لبنانی تنظیم شام میں اپنی عسکری مداخلت کا دوسرا جواز یہ پیش کرتی ہے کہ وہ اہل تشیع کے مقدس مقامات کا تحفظ کررہی ہے۔

دمشق میں تعینات حزب اللہ کے اتحادی ابوالفضل العباس بریگیڈ نے کہا ہے کہ وہ القلمون میں متوقع لڑائی میں حصہ لے گا اور وہ شامی دارالحکومت کے شیعہ آبادی والے علاقے سید زینب میں حالیہ حملوں کے ردعمل میں ایسا کرے گا۔

عباس بریگیڈ میں زیادہ تر عراق سے تعلق رکھنے والے شیعہ جنگجو شامل ہیں اور وہ گذشتہ کئی ماہ سے صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے ساتھ مل کر باغی جنگجوؤں کے خلاف لڑرہے ہیں۔

القصیر پر شامی فوج کے قبضے کے بعد وہاں لڑنے والے باغی جنگجو القلمون کے علاقے کی جانب چلے گئے تھے اور اب ان کے خلاف حزب اللہ اور شامی فوج کی مشترکہ جنگی کارروائی کی باتیں ایسے وقت میں کی جارہی ہیں جب جنیوا میں شامی بحران کے حل کے لیے امن بات کے انعقاد کے لیے عالمی سطح پر سفارتی کوششیں کی جارہی ہیں۔

لندن سے شائع ہونے والے اخبار الشرق الاوسط نے لکھا ہے کہ امریکا اور روس دونوں القلمون کی لڑائی کو رونما ہونے سے روکنے کے لیے کوشاں ہیں۔اخبار نے ایک مغربی سفارت کار کے حوالے سے لکھا ہے کہ شامی رجیم اس جنگ کے لیے تحریک دے رہا ہے کیونکہ وہ نہیں چاہتا کہ جنیوا میں امن کانفرنس کا انعقاد ہو۔

اس سفارت کار کے بہ قول بشارالاسد اب یہ خیال کرتے ہیں کہ انھوں نے خطرے کو عبور کر لیا ہے،اس لیے وہ جنیوا دوم کانفرنس میں رعایتیں دینے کو تیار نہیں ہیں جبکہ حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے جہادی بھی اس مجوزہ بات چیت کے مخالف ہیں۔

القلمون میں اگر شامی فوج اور اس کی اتحادی تنظیم حزب اللہ کے جنگجوؤں کی باغیوں کے ساتھ شدید لڑائی ہوتی ہے تو اس کے پڑوسی ملک لبنان کے لیے بہت ہی سنگین مضمرات ہوں گے اورعلاقے سے ہزاروں لوگ اپنا گھربار چھوڑ کر لبنان کی جانب چلے جائیں گے۔