.

جوہری توانائی کے عالمی ادارے کا ایرانی رویے پر اطمینان

ایران کی نئی تجاویز میں وزن ہے: ڈائریکٹر جنرل آئی اے ای اے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے جوہری ہتھیاروں سے متعلق ادارے نے ایران کے معتدل صدر ڈاکٹر حسن روحانی کی طرف سے جوہری حوالے سے تعاون کرنے کی تعریف کی ہے۔ انٹر نیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کی طرف سے اس امر پر اطمینان ظاہر کیا گیا ہے کہ ایرانی حکومت اس سے قطع نظر کہ عالمی طاقتوں کے ساتھ اس کے مذاکرات جاری ہیں عالمی ادارے کے مطابق تعاون کرنے پر آمادہ ہے۔

آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل یوکیا امانو کے مطابق ان کی صدر روحانی کے ساتھ بڑی مفید اور کا رآمد بات چیت ہوئی ہے جس کے نتیجے میں ایران کے دنیا کی چھ بڑی طاقتوں کے ساتھ مذاکرات شروع ہو گئے ہیں۔

عالمی جوہری ادارے کے ڈی جی کا کہنا ہے'' کہ صدر روحانی کے بر سر اقتدار آنے کے بعد ہمارا متعدد بار رابطہ ہو چکا ہے، ایرانی صدر اور ان کی ٹیم نے کبھی بھی کسی معاملے کو عالمی طاقتوں کے ساتھ ہونے والے مذاکرات سے نتھی نہیں کیا جن کے ذریعے ایران امریکی پابندیوں سے آزاد ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔''

ایک سوال کے جواب میں ڈائریکٹر کا کہنا تھا '' ایران کی طرف سے پیش کردہ نئی تجاویز میں وزن ہے ۔'' ان کا یہ بھی کہنا تھا '' ہم ایران کے ماضی اور حال کی سرگرمیوں کا کچھ فرق دیکھنا چاہیے ۔'' تاہم انہوں نے اس بارے میں کچھ کہنے سے انکار کر دیا کہ ایران جوہری پروگرام کی تحقیقات کے لیے ماضی کے مقابلے میں کس قدر زیادہ مداخلت کرنے دے گا۔

واضح رہے صدر روحانی جنہوں نے جون میں اقتدار سنبھالا ہے اپنے عوام سے وعدہ کر کے منتخب ہوئے ہیں کہ وہ بری حالت کو پہنچی معیشت کو بحال کریں گے اور اس مقصد کیلیے سیاسی حل نکالیں گے۔

جوہری توانائی سے متعلق عالمی ادارے کے 11 نومبر کو ایک مرتبہ پھر تہران میں مذاکرات ہونے والے ہیں جبکہ اس سے قبل سات اور آٹھ نومبر کو جنیوا مذاکرات کا دوسرا دور شروع ہو رہا ہے۔