.

حزب اللہ کو ہتھیاروں کی فراہمی ناکام بنا دیں گے: اسرائیل

شام میں فوجی اہمیت کے ہدف پر اسرائیلی حملے کے بعد بیان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ جدید ہتھیاروں تک حزب اللہ کی رسائی کو ناممکن بنا دے گا۔ یہ اعلان اپوزیشن کے بقول شامی فضائیہ کے ایک اڈے کو اسرائیل کی جانب سے نشانہ بنائے جانے کی خبروں کے بعد سامنے آیا ہے جہاں پر حزب اللہ کو فراہم کئے جانے والے میزائل مبینہ طور پر سٹاک کئے گئے تھے۔

اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ شام کے بارے میں ہماری پالیسی واضح ہے اور ہم اسے نافذ کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کریں گے۔ جمعہ کے روز امریکا اور یورپی ذرائع نے دعوی کیا تھا کہ اسرائیل نے جنگ میں مصروف اپنے ہمسایہ [شام] پر حملہ کیا ہے۔

اسرائیل نے امریکی ذرائع ابلاغ کو لیک کی جانے والی ان اطلاعات پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے جس میں دعوی کیا گیا تھا کہ اللاذقیہ بندرگاہ کے قریب ایک شامی ٹھکانے کو نشانہ بنایا گیا ہے جس کے بارے میں خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہاں رکھے میزائل حزب اللہ کو فراہم کئے جانے تھے۔

اسرائیل کے ہوم فرنٹ ڈیفنس منسٹر گیلاد ایردان نے بتایا کہ ان کا ملک کئی بار اس بات کا اعادہ کر چکا ہے کہ ہم حزب اللہ کو اسلحہ کی منتقلی نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے اسرائیل ریڈیو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ہم اپنی اسی پالیسی پر کاربند ہیں تاہم اسرائیل کی سیکیورٹی کابینہ کے اس اہم رکن نے حملے کی تصدیق یا تردید سے انکار کیا۔

اسرائیل اس سال کے اندر ابتک شامی اہداف پر چار مرتبہ حملے کر چکا ہے۔ اس سلسلے کا آخری حملہ جولائی میں کیا گیا جس کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کا یہ بیان سامنے آیا تھا کہ ان کا ملک جدید طیارہ اور بحری جہاز میزائل اور دور مار میزائل شام سے اس کے ہمسایہ اتحادی لبنانی حزب اللہ کو منتقل نہیں ہونے دے گا۔

ایک امریکی اور دو یورپی اہلکاروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ گزشتہ بدھ کو شام میں فوجی نوعیت کے اہداف کو اسرائیل نے نشانہ بنایا تھا۔

ان حکام نے نشانے بنائے جانے والے شامی اہداف کی نشاندہی نہیں کی تاہم امریکی اور یورپی حکام نے اس بات کا اظہار کیا ہے کہ ماضی میں ایسی اسرائیلی کارروائیوں میں حزب اللہ کو میزائل کی منتقلی ناکام بنایا گیا۔