.

فرقہ واریت کیمائی ہتھیاروں سے زیادہ خطرناک ہے: جواد ظریف

ترکی اور ایران میں شام اور خطے کو فرقہ واریت سے بچانے پر اتفاق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں صدر بشار الاسد کے ایک بڑے اتحادی ایران اور شامی باغیوں کی بالواسطہ متحرک حمایت کرنے والے ملک ترکی نے شام میں فرقہ وارانہ نوعیت کی خانہ جنگی پر مشترکہ طور پر تشویش ظاہر کی ہے۔

ایران جس کے نئے صدر نسبتا اعتدال پسند ہیں اور مغربی دنیا کے ساتھ اپنے معاملات بہتر کرنے کے خواہاں ہیں شام میں القاعدہ کے ابھرنے پر تشویش میں یکساں طور پر شریک ہیں۔

استنبول میں ایرانی وزیر خارجہ کی ملاقات کے ترک وزیر خارجہ احمد داود اوگلو کا کہنا تھا '' ایرارنی وزیر خارجہ کے ساتھ اس امر کی دلیل ہے کہ ہم فرقہ وارانہ قسم کی لڑائیوں اور فسادات کیخلاف مل کر کوشش کریں گے۔''

واضح رہے ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف ان دنوں ترکی کے دورے پر ہیں اور ترک صدر عبداللہ گل کے علاو وزیراعظم رجب طیب ایردوآن سے بھی مل چکے ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ کا اس موقع پر کہنا تھا فرقہ وارانہ خانہ جنگی کیمیائی ہتھیاروں سے بھی زیادہ خطر ناک ہوتی ہے، اگر مشرق وسطی میں فرقہ واریت کی آگ بھڑک اٹھی تو اس کے اثرات لندن ، نیویارک، روم اور میڈرڈ کی گلیوں میں بھی پہنچیں گے۔''

خیال رہے ترکی اور ایران کے درمیان شام میں بشارالاسد کے مستقبل کے بارے مین بھی ایک واضح خلیج موجود ہے، تاہم دونوں ملکوں کا آپس میں تعلقات بہتر کرنے پر اتفاق ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کا کہنا تھا '' ایران اور ترکی کے درمیان مشترکہ میدان کار موجود ہے، بشمول شام کے عوام کو ان کا اپنے مستقبل کے فیصلے خود کرنے دینے کا موقع فراہم کرنا ہے۔''

اس دوران ایک ترک سفارتی ذمہ دار کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیانی بہتری کی خواہش موجود ہے تاہم سوال یہ ہے کہ یہ بہتری کیسے آئے گی۔