.

مصر: اہم سیاسی رہنما زیر عتاب اداکار کے حامی ہو گئے

دو ہفتوں میں دو یوسف معتوب، ایک کنگ فو کا چمپئین دوسرا کامیڈین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے معروف کامیڈین باسیم یوسف کے پروگرام ''البرنامگ '' کو آن ائیر ہونے سے روکے جانے کے بعد باسیم یوسف کے حامیوں نے مصر کے حکمرانوں پر تنقید پر مبنی دلچسپ اور حسب حال پروگراموں کیلیے یو ٹیوب کو استعمال کرنے کی تیاری شروع کردی ہے۔

حالیہ دو ہفتوں کے دوران عبوری حکومت اور فوجی سربراہ پر تنقید کرنے والے مصر کے دو یوسف زیر عتاب آئے ہیں۔

پہلے یوسف نامی کنگ فو کے مصری چمپئین یوسف کو روس میں گولڈ میڈل وصول کرنے سے اس لیے روک دیا گیا کہ وہ معزول صدر محمد مرسی کا حامی ہے، جبکہ باسیم یوسف کا پروگرام بھی ٹیوی چینل کو اس دباو کے باعث بند کرنا پڑا ہے باسیم فوج کی سیاست میں مداخلت کے حق میں نہیں اور مصری کی فوجی قیادت پر تنقید کرتا ہے۔

دلچسپ بات ہے کہ معزول صدر مرسی کے کٹر مخالف اور تمرد تحریک کے بانی محمد بدر نے بھی باسیم یوسف کے ٹی وی پروگرام کی بندش کی ٘مخالفت کر دی ہے۔ تمرد تحریک کے بانی محمد بدر نےا پنے ٹوئٹر پیغام میں لکھا ہے کہ '' ہم باسیم یوسف اور آزاد میڈیا کے ساتھ ہیں۔''

اس سے پہلے بھی حکومت احمد الحلمی نامی ایک کامیڈین کو انہی بنیادوں پر پابندیوں کا نشانہ بنا چکی ہے۔ اس حوالے سے اپنے ٹوئٹر پیغام میں لکھا ہے '' ایک رجیم جو فنکاروں سے خوف کھاتی ہو اور انہیں کام سے روکتی ہو وہ درحقیقت ایک ناکام رجیم ہوتی ہے۔''

انہوں نے مزید لکھا '' ہمارا خیال تھا ہم انقلاب کی طرف بڑھے ہیں، آزادی کی طرف بڑھ رہے ہیں لیکن سب کچھ اس کے برعکس ہو رہا ہے۔''

باسیم کے پرستاروں نے اس کا پروگرام بند کیے جانے پر افسوس کا اظہار کیا ہے، سابق عبوری نائب صدر محمد البرادعی نے بھی اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا ہے کہ آزادی اظہار انتہائی اہم ہے۔''

2012 میں مصری صدارت کے امیدوار بننے والے خالد علی نے بھی باسیم یوسف کی حمایت اور اس کے خلاف عبوری حکومت کے دباو کے بارے میں اپنے ٹوئٹر پیغام میں لکھا پے کہ '' دباو اور پابندیاں افکار کو ختم نہیں کر سکتیں بلکہ انہیں دائمی بنا دیتی ہیں۔''

دوسری جانب فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح کے حامیوں نے باسیم یوسف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسے جنرل سیسی کے خلاف ایسی حرکتیں نہیں کرنا چاہیں وہ جنرل سیسی ایک ہیرو اور قومی قائد ہیں۔ لیکن دلچسپ بات ہے کہ ایک جانب ایک فنکار کے ساتھ عبوری حکومت کے بڑے بڑے حامی کھڑے ہیں اور دوسری جانب جنرل سیسی کا ذکر ہو رہا ہے۔