.

کیمیائی ہتھیاروں کی بڑی مقدار شام سے باہر منتقل کی جائے، روس

شام میں موجود کیمائی ماہرین کی سربراہ سے روسی نائب وزیر خارجہ کی ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس نے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ شام کے کیمائی ہتھیاروں کا بڑا حصہ شام میں ہی تباہ کرنے کے بجائے وہاں سے دوسری جگہ منتقل کیا جائے گا۔ یہ بات روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریاب کوف نے شام میں کیمائی ہتھیاروں کی تلفی کے لیے موجود عالمی ماہرین کی سو رکنی ٹیم کی سربراہ سگرید کاگ سے ملاقات کے بعد کہی ہے۔

اس موقع پر مچ نے بھی شامی کیمائی ہتھیاروں کے غالب حصے کو شام کی سرحدوں سے باہر منتقل کرنے کی حمایت کی، تاہم کیمیائی ہتھیاروں کو شام سے باہر لے جانے کی وجہ بیان نہیں کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ شام میں اڑھائی سال سے زیادہ مدت سے جاری خانہ جنگی کے دوران روس شام کے صدر بشارالاسد کا سب سے بڑا حامی ہے اور اس موقف کو پیش کرتا ہے کہ بشارالاسد کی اقتدار سے علیحدگی شام کیلیے امن مذاکرات کی پیشگی شرط کے طور پر عاید نہیں کیا جانا چاہیے۔

اس اہم ملاقات سے دو روز پہلے کیمیائی ہتھیاروں کے امتناع کی عالمی تنظیم کہہ چکی ہے اس نے شام میں کیمائی ہتھیار سازی میں کام آنے والے تقریبا تمام آلات کو ڈیڈ لائن سے بھی پہلے ختم کر دیا ہے۔ البتہ ایسے دو مقامات جہاں باغیوں کے ساتھ شامی فورسز کی جنگ ہورہی ہے ان تک کیمیائی معائنہ کاروں کی رسائی نہیں ہو سکی ہے۔

کیمائی ماہرین کے مطابق ان دو مقامات میں سے ایک جگہ کا نام سفیرا ہے جو حلب شہر سے ملحق ہے اور اس علاقے میں باغیوں کے ساتھ شامی فوج کی جنگ کی اطلاعات ہیں، تاہم 15 نومبر تک شام اور معائنہ کاروں کو تقریبا ایک ہزار میٹرک ٹن کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی کے لیے کسی سمجھوتے پر پہنچنا ہے۔

کاگ سے روس کے نائب وزیر خارجہ کی ملاقات کے بعد جاری کیے گئے بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہتھیاروں کی تلفی کا مرحلہ کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔

اس سلسے میں شام نے کیمائی ہتھیاروں کے امتناع کی تنظیم سے درخواست کی ہے کہ اسے اپنے ان '' اثاثوں '' میں کچھ کو مثبت استعمال کیلیے ان کی ہیت تبدیل کرنے کی اجازت دی جائے، تاہم ان اشیاء کا استعمال غیر فوجی ہو گا۔

اس بارے میں بین الاقوامی تنظیم نے ابھی فیصلہ کرنا ہے کہ آیا شام کو ایسا کرنے کی اجازت دی جائے یا نہیں۔