.

امریکا مصری حکومت کے ساتھ کام جاری رکھے گا:جان کیری

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مصر کی مدد جاری رکھیں گے:قاہرہ میں نیوزکانفرنس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ امریکا نے مصر کی عبوری حکومت کے ساتھ کام کرنے کا عزم کررکھا ہے اور ہم اس حکومت کے ساتھ تعاون جاری رکھیں گے۔

جان کیری نے یہ بات قاہرہ میں اتوار کو مصری وزیرخارجہ نبیل فہمی کے ساتھ ملاقات کے بعد نیوزکانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی ہے۔انھوں نے کہا کہ مصر ہمارا ایک اہم شراکت دارہے۔میں مصری عوام کو واضح اور دوٹوک الفاظ میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ امریکا ان کا اور ان کے ملک مصر کا دوست ہے اور ہم شراکت دار ہیں۔

انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ انھوں نے مصری وزیرخارجہ نبیل فہمی کے ساتھ ملک میں تشدد کے خاتمے اور تمام مصریوں کے شفاف اور منصفانہ ٹرائل کی ضرورت کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا ہے۔

ان کا منتخب جمہوری صدرڈاکٹر محمد مرسی کی 3 جولائی کو مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی کے ہاتھوں برطرفی کے بعد یہ پہلا دورہ ہے اور وہ ڈاکٹر مرسی کے خلاف مظاہرین کی ہلاکتوں کے مقدمے کی سماعت سے صرف ایک روز قبل قاہرہ پہنچے ہیں۔

فوج کے ہاتھوں پہلے جمہوری صدر کی برطرفی کے بعد مصر اور امریکا کے دوطرفہ تعلقات میں رخنہ آیا ہے۔البتہ صدر باراک اوباما کی انتظامیہ نے صدرمرسی کی برطرفی کو فوجی بغاوت قرار نہیں دیا تھا اور اس اقدام کی مذمت بھی نہیں کی تھی۔

9اکتوبر کو امریکا نے مصر کی ڈیڑھ ارب ڈالرز کی سالانہ امداد کو منجمد کردیا تھا اور اس کی بحالی کے لیے مصر میں جمہوریت اور انسانی حقوق کے احترام کی شرط عاید کی تھی۔امریکا نے یہ فیصلہ ڈاکٹر مرسی کے حامیوں کے خلاف مصری سکیورٹی فورسز کے کریک ڈاؤن کے بعد کیا تھا۔عبوری حکومت کے تحت فورسز کی کارروائیوں میں ایک ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

مصر کی امداد کی معطلی کے بارے میں جان کیری کا کہنا تھا کہ یہ کوئی سزا نہیں ہے۔ان کا موقف تھا کہ امریکا اور مصر کے تعلقات کا امداد سے تعین نہیں کیا جانا چاہیے بلکہ امریکا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مصر کی مدد جاری رکھے گا۔

جان کیری اپنے چھے گھنٹے کے اس مختصر دورے میں عبوری صدر عدلی منصور اور مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی سے ملاقات کرنے والے تھے۔اس کے علاوہ انھوں نے مصر کی سول سوسائٹی کے ارکان سے بھی بند کمرے میں ملاقات کرنا تھی۔وہ علاقے کے ملکوں کے دورے پر ہیں اور مصرکے بعد وہ سعودی عرب ،اسرائیل ،اردن ،متحدہ عرب امارات ،الجزائر اور مراکش جائیں گے۔