.

ڈاکٹرمرسی کے خلاف بند کمرے میں مقدمے کی سماعت کا حکم

قاہرہ کی اپیل عدالت نے مقدمے کی کارروائی براہ راست نشرکرنے پرپابندی لگادی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے دارالحکومت قاہرہ کی ایک اپیل عدالت نے برطرف صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے خلاف مظاہرین کی ہلاکتوں کے مقدمے کی بند کمرے میں سماعت کا حکم دیا ہے اور اس کی کارروائی براہ راست نشر کرنے پر پابندی عاید کردی ہے۔عدالت نے صحافیوں اور فوٹوگرافروں کو بھی مقدمے کی سماعت کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

قاہرہ سے العربیہ کے نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ مصری حکام نے اتوار کو ڈاکٹر مرسی کے خلاف سوموار سے مقدمہ پہلے سے اعلان شدہ جگہ پولیس انسٹی ٹیوٹ کے بجائے اب پولیس اکیڈیمی میں چلانے کا فیصلہ ہے۔

مصر کے وزیرداخلہ نے متعدد سکیورٹی حکام کے ہمراہ برطرف صدر کے خلاف ٹرائل کی حتمی تیاریوں کا جائزہ لینے کے لیے ہفتے کے روز طرہ جیل کے نزدیک واقع پولیس انسٹی ٹیوٹ کا دورہ کیا تھا۔اس کے بعد غالباً پولیس اکیڈمی میں مقدمہ منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

درایں اثناء مصر کے عبوری وزیراعظم کے ایک میڈیا مشیر نے ان افواہوں کی تردید کی ہے کہ ٹرائل کے دوران متعدد سرکاری دفاتر کو بند رکھا جائے گا۔ان کے بہ قول ملک میں نافذ کرفیو سمیت تمام کام معمول کے مطابق جاری رہیں گے۔

ڈاکٹرمحمد مرسی اور اخوان المسلمون سے تعلق رکھنے والے چودہ مدعاعلیہان کے خلاف 4 نومبر سے دسمبر 2012ء میں صدارتی محل کے باہر مظاہرین کی ہلاکتوں اور تشدد کی شہ دینے کے الزامات میں مقدمہ چلایا جارہا ہے۔اگر عدالت نے انھیں قصوروار ٹھہرا دیا تو انھیں عمرقید یا پھر سزائے موت کا سامنا ہوسکتا ہے۔

مصری وزارت داخلہ کے حکام کا کہنا ہے کہ پولیس اکیڈیمی میں ڈاکٹرمرسی کے خلاف مقدمے کی سماعت کے موقع پر قریباً بیس ہزار پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا جائے گا۔دوسری جانب اخوان المسلمون کی قیادت میں فوجی انقلاب مخالف اتحاد نے پولیس اکیڈمی کے باہر ایک بڑی ریلی نکالنے کا اعلان کررکھا ہے۔اخوان المسلمون سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹرمرسی کے ہزاروں حامی ان پرمقدمہ چلائے جانے کے خلاف گذشتہ کئی ہفتوں سے احتجاج کررہے ہیں۔