.

جان کیری کے بیانات سے امن مذاکرات کے لیے خطرات پیدا ہوگئے:شام

بشارالاسد کے ہوتے ہوئے شام میں جنگ کا خاتمہ ممکن نہیں:امریکی وزیرخارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام نے امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے حالیہ بیانات کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اس سے مجوزہ امن مذاکرات ناکامی سے دوچار ہوسکتے ہیں۔

شامی وزارت خارجہ نے اتوار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ''جان کیری کے بار بار کے بیانات جنیوا کانفرنس کی ناکامی کا سبب بن سکتے ہیں۔ان کے یہ بیانات شامی امور میں ننگی مداخلت ہیں اور شامی عوام کے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے حق کے خلاف جارحیت ہیں''۔

اس سے چندے قبل جان کیری نے قاہرہ میں نیوزکانفرنس کے دوران کہا ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کا شامی تنازعے کے حوالے سے نقطہ نظر مختلف ہوسکتا ہے لیکن ان میں شام میں اقتدار کی منتقلی کے حوالے سے اتفاق ہے اور بعض ممالک ایسے بھی ہیں جو یہ چاہتے ہیں کہ امریکا شام میں کچھ کرے لیکن ہم جو کرنا تھے، کرچکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ''امریکا اوراس کے اتحادی ممالک کے شام کے حوالے سے انفرادی طریق کار کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ان کے درمیان پالیسی کے بنیادی مقصد پر کوئی اختلاف ہے''۔

انھوں نے کہا کہ ''ہم سب کا مشترکہ ایک مقصد ہے اور وہ یہ ہے کہ ریاست شام کے مسئلے کے حل کے لیے ایک عبوری حکومت قائم کی جائے اور وہی شامی عوام کو اپنے مستقبل کے بارے میں کوئی فیصلہ کرنے کا حق دے سکتی ہے''۔

جان کیری نے کہا کہ ''صدربشارالاسد حکمرانی کا اخلاقی جواز کھوچکے ہیں اور شام میں ایک عبوری حکومت کے قیام کی ضرورت ہے لیکن بشارالاسد اس حکومت کا حصہ نہیں بن سکتے اور کوئی بھی اس سوال کا جواب نہیں دے سکتا کہ بشارالاسد کے ہوتے ہوئے اس جنگ کا کیسے خاتمہ ہوسکتا ہے''۔

امریکی وزیرخارجہ اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاروف اوراقوام متحدہ اورعرب لیگ کے مشترکہ ایلچی لخضرالابراہیمی کے ساتھ مل کر جنیوا میں امن کانفرنس کے انعقاد کے لیے کوششیں کررہے ہیں۔اس ضمن میں وہ گذشتہ سال منعقدہ کانفرنس کے موقع پرطے پائے اتفاق کے مطابق شام میں بشارالاسد کے بغیر عبوری حکومت کے قیام کے لیے بھی کوشاں ہیں۔ جنیوا اول میں یہ کہا گیا تھا شام میں ایک عبوری حکومت قائم کی جانی چاہیے۔

جان کیری عرب ممالک کے ساتھ تعلقات کی بہتری کے لیے بات چیت کی غرض سے گیارہ ممالک کے دورے کے پہلے مرحلے میں اتوار کو قاہرہ پہنچے تھے اور وہ وہاں مختصر قیام کے بعد سعودی عرب روانہ ہونے والے تھے۔

ان سے پہلے لخضرالابراہیمی نے مشرق وسطیٰ کے خطے کے ملکوں کا دورہ کیا ہے۔اس دورے کے بعد وہ جنیوا میں امریکی اور روسی سفیروں سے ملاقات کریں گے۔واضح رہے کہ جنیوا دوم امن کانفرنس کے لیے ابھی کوئی تاریخ مقرر نہیں کی گئی ہے۔