.

یہودی آبادکاروں کے لیے 1859 مکانات کی تعمیر کے ٹینڈرز جاری

کامیاب بولی دہندگان غرب اردن میں نئے منصوبوں پر فوری تعمیراتی کام شروع کرسکیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل نے امریکی وزیرخارجہ جان کیری کے دورے سے قبل دریائے اردن کے مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں کو بسانے کے لیے 1859 نئے مکانوں کی تعمیر کے لیے ٹینڈرز جاری کردیے ہیں۔

فلسطینی سرزمین پر یہودی آبادکاری کی سرگرمیوں کی نگرانی کرنے والی اسرائیلی تنظیم ''اب امن'' نے اتوار کو ایک بیان میں بتایا ہے کہ اسرائیل کی مکانوں اور تعمیرات کی وزارت نے مقبوضہ غرب اردن میں 1031 پلاٹوں اور مشرقی القدس میں 828 مکانوں کی تعمیر کے لیے پیش کشیں طلب کی ہیں۔کامیاب بولی دہندگان ان منصوبوں پر فوری طورپر تعمیراتی کام شروع کرسکیں گے۔

اس تنظیم سے تعلق رکھنے والے کارکن ہجیت عفران نے فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''آیندہ چند ماہ میں وہ (اسرائیلی حکام) کامیاب بولی دہندہ کا انتخاب کریں گے اور کامیاب ٹھیکے دار اس کے بعد ہفتوں میں ہی تعمیراتی کام کا آغاز کردیں گے''۔

فلسطینیوں نے اسرائیل کے مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں کو بسانے کے حالیہ تعمیراتی منصوبوں کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے رجوع کرنے کی دھمکی دی ہے۔

تنظیم آزادیٔ فلسطین کے ایک سنئیر عہدے دار واصل ابویوسف کا کہنا ہے کہ ''پی ایل او اسرائیل کے نئے فیصلوں کے خلاف سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ میں جانے کے لیے میکانزم پر غور کررہی ہے۔خاص طور پر اس لیے بھِی کہ بین الاقوامی قراردادوں میں ان یہودی بستیوں کو غیر قانونی قراردیا گیا ہے''۔

اسرائیل کی جانب سے یہودی آبادکاروں کے لیے نئے مکانوں کی تعمیرکے منصوبے سے متعلق یہ اطلاع ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی وزیرخارجہ جان کیری خطے کے گیارہ ممالک کے دورے پر ہیں اور وہ اسرائیل بھی آنے والے ہیں۔انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ ''اس میں کوئی شک نہیں یہودی بستیوں سے ادراک متاثر ہوا ہے کہ لوگ سنجیدہ ہیں بھی یا نہیں اور کیا وہ درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں''۔

واضح رہے کہ اسرائیل اورفلسطینی اتھارٹی کے درمیان تین سال کے تعطل کے بعد امریکی وزیرخارجہ کی کوششوں کے نتیجے میں جولائی میں براہ راست مذاکرات بحال ہوئے تھے۔ان مذاکرات کا مقصد مشرق وسطیٰ کے تنازعے کے دوریاستی حل کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا اور اختلافات کا خاتمہ ہے۔

جان کیری کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے شرکاء نے ان میں ہونے والی پیش رفت کے حوالے سے خاموشی برقراررکھی ہوئی ہے تاکہ اس مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کرنے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنایا جاسکے۔

لیکن اس دوران اسرائیل نے اشتعال انگیزی کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے فلسطینیوں کی غصب کی گئی سرزمین پر یہودی آبادکاروں کو لاکر بسانے کا کام زورشور سے شروع کردیا ہے اور گذشتہ ہفتے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اور ان کے وزیرداخلہ جدون سار نے مقبوضہ مشرقی القدس میں قائم یہودی بستی رامات شلومو میں مزید پندرہ سو نئے مکانوں کی تعمیر سے اتفاق کیا تھا۔

اس سے قبل اسی غیر قانونی یہودی بستی میں امریکا کے نائب صدر جو بائیڈن کے مارچ 2010ء میں اسرائیل کے دورے کے موقع پر آبادکاروں کے لیے مکانوں کی تعمیر کے منصوبے کا اعلان کیا گیا تھا۔اس پر امریکا نے اپنے شدید ردعمل کا اظہار کیا تھا۔

گذشتہ ہفتے اسرائیل کے ایک عہدے دار نے دعویٰ کیا تھا مشرق القدس میں یہودی آبادکاروں کے بلاکوں میں نئے مکانوں کی تعمیر کا اعلان فلسطینیوں اور امریکا کے ساتھ طے پائی مفاہمتوں کا حصہ ہے لیکن فلسطینیوں نے ایسے کسی سمجھوتے کے وجود کا یکسر انکار کردیا ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے 1967ء کی جنگ میں اس بیت المقدس پر قبضہ کیا تھا اور 1982ء میں اسے اپنی ریاست میں ضم کرلیا تھا لیکن اس کے اس اقدام کو عالمی برادری نے تسلیم نہیں کیا تھا۔اب اسرائیل مقبوضہ بیت المقدس کو اپنا دائمی اورناقابل تقسیم دارالحکومت قراردیتا ہے جبکہ فلسطینی اسے اپنی مستقبل میں قائم ہونے والی مجوزہ ریاست کا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں۔