.

معزول صدر مرسی کا اپنے خلاف کئی ملین افراد کے احتجاج کا اعتراف

سابق صدر کی گرفتاری کے تین ماہ بعد پہلا ویڈیو بیان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے معزول صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی جانب بعض اعترافی بیانات پر مبنی ایک ویڈیو فوٹیج سامنے آئی ہے۔ تین جولائی کو عوامی دباؤ کے نتیجے میں معزولی کے تین ماہ بعد سامنے آنے والی اس ویڈیو میں انہوں نے اعتراف کیا کہ تیس جون کو 2013ء کو ان کی حکومت کو ہٹانے کا مطالبہ کرنے والے عوام کی تعداد کئی ملین افراد پر مشتمل تھی۔

مصری اخبار "الوطن" کی رپورٹ کے مطابق ویڈیو میں معزول صدر محمد مرسی کے اقتدار کے آخری ایام میں ان کی بعض سیاسی رہ نماؤں اور سفارت کاروں سے ہونے والی گفتگو کا بھی احوال موجود ہے۔ البتہ ان کے بعض بیانات میں کھلا تضاد بھی پایا جاتا ہے۔ جو باتیں وہ اقتدار میں رہتے ہوئے کرچکے ہیں، ویڈیو میں ان کا "انکار" کیا گیا ہے۔

ان ہی میں سڑکوں پر نکلنے والے عوام کی تعداد کے بارے میں محمد مرسی کے بیانات ہیں۔ جب وہ برسراقتدار تھے تو ان کے نزدیک احتجاج کرنے والے مٹھی بھر افراد تھے لیکن آج انہوں نے تسلیم کیا ہے کہ ان کی تعداد لاکھوں میں تھی۔

کیتھرین آشٹن کی ملاقات

ویڈیو فوٹیج کے مطابق معزولی کے بعد یورپی یونین کی خارجہ تعلقات عامہ کی سربراہ کیھترین آشٹن نے جیل میں معزول صدر محمد مرسی سے ملاقات کی۔ مسز آشٹن نے ان سے استفسار کیا کہ عوام کے مطالبے پر آپ نے وزیر اعظم ھشام قندیل اور پراسیکیوٹر جنرل طلعت ابراہیم کو ان کے عہدے سے کیوں نہ ہٹایا، تو انہوں نے جواب دیا میں"میں اس وقت ملک کا صدرتھا۔ مجھے معلوم ہے کی مملکت میں کئی قسم کی آراء رکھنے والے لوگ موجود ہیں، لیکن ہر ایک کی رائے کو نافذ بھی نہیں کیا جا سکتا ہے ۔ ہشام قندیل کو ہٹانے کا مطالبہ کرنے والے اگر موجود تھے تو ان کی حمایت کرنے والوں کی بھی بڑی تعداد موجود تھی۔ اس لیے میں نے اس وقت جو بھی کیا وہ ملک کے مفاد میں کیا تھا"۔

ملاقات کے وقت معزول صدر سخت خوف اور دباؤ میں محسوس ہو رہے تھے۔ کیتھرین آشٹن نے مزید استفسار کیا کہ اگر آپ کی حکومت کے خلاف اٹھنے والی تحریک میں لاکھوں افراد سڑکوں پر تھے تو اخوان المسلمون کو ان کے مطالبات کو تسلیم کر لینا چاہیے تھا۔ اس پر محمد مرسی نے اعتراف کیا کہ "ان کی برطرفی کی حمایت میں کئی ملین افراد سڑکوں پر تھے۔ انقلابیوں کے دعوے کے مطابق یہ تعداد 30 ملین سے زائد تھی۔ میں یہ کہتا ہوں کہ انہیں نئے پارلیمانی انتخابات کے کا انتظار کرنا چاہیے تھا"

اخوان کا صدر پر دباؤ

معزول صدر کے اعترافی بیانات پر مبنی ویڈیو فوٹیج پرتبصرہ کرتے ہوئے مصری دانشوراشرف العشری نے"العربیہ" ٹی وی کو بتایا کہ "معزول صدر کے ویڈیو بیان سے ایسے لگ رہا ہے کہ ان کے پاس کئی اہم اورحساس نوعیت کی معلومات ہیں۔ ان میں سے بعض کا انہوں نے اعتراف بھی کیا ہے۔ ان کے اعترافات میں اخوان المسلمون کے شعبہ دعوت ارشاد کی جانب سے دباؤ کا بھی حوالہ موجود ہے کیونکہ محمد مرسی کا کہنا ہے کہ عوامی بغاوت کے دوران اخوان کی جانب سے انہیں کہا گیا تھا کہ وہ عوام کے مطالبات کے بجائے دعوت وارشاد کے ہدایت پرعمل درآمد کریں"۔

اشرف العشری نے کہا کہ "سابق صدرکا خیال تھا کہ ان کے خلاف تیس جون کو چند لوگ سڑکوں پر نکلیں گے لیکن وہ لاکھوں لوگوں کو دیکھ کرحیران رہ گئے۔ سابق صدر کو حقائق کوتسلیم کرتے ہوئے اپنے خلاف عوامی طاقت کے مظاہروں کو تسلیم کرنا ہی پڑے گا کیونکہ وہ مظاہرے غیرآئینی نہیں تھے"۔

تجزیہ نگار نے الزام عائد کیا کہ اخوان المسلمون نے پہلے ہی ملک میں افراتفری پھیلانے کا تہیہ کرلیا تھا۔ سابق صدر کے خلاف عدالتی کارروائی کے دوران ڈرامے کے کئی دیگر اہم واقعات سامنے آئیں گے"۔

ویڈیو فوٹیج میں سابق صدر نے تسلیم کیا ہے کہ حراست کےدوران ان کے ساتھ حسن سلوک کا مظاہرہ کیا گیا اورانہیں وہی عزت دی گئی ہے جو ان کی شایان شان تھی۔ انہوں نے کہا کہ میں نے حراست کے دوران تفتیش میں بھی واضح کردیا ہے کہ میں مجرم نہیں ہوں۔ اگر میرے خلاف کوئی عدالتی کارروائی ہوتی ہے تو میں اپنا دفاع کروں گا۔