.

ایرانی اسلحہ شام پہنچانے کے لیے عراقی فضا استعمال کرنے کا الزام

نوری المالکی معاملے میں دانستہ چشم پوشی کے مرتکب قرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں نوری المالکی کی قیادت میں قائم امریکی کٹھ پتلی حکومت کو اپنے ملک میں دہشت گردی کے خاتمے میں ناکامی کے ساتھ شام میں دہشت گردی کے فروغ میں مدد کے الزامات کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے۔

حال ہی میں امریکی صدر سے ملاقات میں نوری المالکی نے باراک اوباما کو اپنے ملک [عراق] میں ہونے والی دہشت گردی سے متعلق ایک تفصیلی رپورٹ پیش کی۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بغداد سرکار کی خدمات سے آگاہ کیا اور وائٹ ہاؤس کو مکمل طور پر مطمئن کرنے کی پوری کوشش کی گئی ہے، جبکہ امریکی کانگریس میں نوری المالکی کی کابینہ میں شامل وزیر برائے ٹرانسپورٹ ھادی العامری کو ایک "سازشی" عنصر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ھادی العامری پر الزام ہے کہ وہ شام میں صدر بشارالاسد کو ایرانی اسلحہ پہنچانے کے لیے عراق کی فضائی حدود کو ایک پُل کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکی کانگریس میں عراقی وزیر کے اسد نواز کردار پرتند وتلخ لہجے میں بحث بھی ہو رہی ہے۔ کئی اراکین کانگریس نے واشگاف الفاظ میں ھادی العامری کی مذمت کرتے ہوئے بغداد حکومت سے ایرانی اسلحہ کی شام کو فراہمی فوری روکنے اور مسٹر العامری کو ان کے عہدے سے ہٹانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

امریکی کانگریس کی جانب سے شام میں جاری خانہ جنگی اور بشارالاسد کو ملنے والی بیرونی فوجی امداد کے حوالے سے ایک رپورٹ جاری کی گئی ہے۔ اس رپورٹ میں ایرانی اسلحہ عراق کے راستے شام پہنچانے میں العامری کا مرکزی کردار بتایا گیا ہے۔
اسلحہ بردار جہازوں کو کھلی چُھٹی

رپورٹ کے مطابق عراقی وزیر ٹرانسپورٹ ھادی العامری شام میں صدر بشارالاسد کی وفادار فوج تک اسلحہ پہنچانے کے لیے مرکزی کردار ادا کررہے ہیں۔ انہوں نے ایران سے اسلحہ اور فوجی ساز و سامان لے جانے والے جہازوں کو بغیر چیکنگ کے براہ راست تہران سے دمشق جانے کی اجازت دے رکھی ہے۔ صرف دکھاوے کے لیے ایران سے آنے والی بعض مسافرو پروازوں کو روک کر ان کی تلاشی ضرور لی جاتی ہے لیکن اسلحہ بردار جہازوں کو بغداد میں نہیں روکا جاتا۔

اسی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ایرانی فوجی سازو سامان شام لے جانے والے جہازوں میں "ایران ائیر" اور "ماھان ایئر" کمپنیوں کے مال بردار جہاز شامل ہیں۔ جو تہران سے اڑان بھرتے ہیں اور پھرعراق کی فضاء سے گذرتے ہوئے براہ راست دمشق کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پہنچتے ہیں۔
عراق کے اس دوغلے پن پر امریکی سخت برہم ہیں۔ انہوں نے معاملہ وزیراعظم نوری المالکی کے نوٹس میں لانے کے ساتھ ان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شام میں فوجی ساز وسامان کی منتقلی کے لیے اپنی سر زمین اور فضاء استعمال کرنے پر پابندی لگائیں۔

ھادی العامری اور قاسم سلیمانی

امریکی حکام کے خیال میں عراقی وزیر مواصلات ھادی العامری اور ایرانی پاسداران انقلاب کی بیرون ملک سرگرم ایلیٹ فورس"القدس بریگیڈ" کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کے درمیان گہرے دوستانہ مراسم ہیں۔ دونوں تقریبا ایک ہی مشن میں مصروف ہیں۔ العامری ایران کے والایت فقیہ کے نظام کا پر زور حامی ہونے کے باعث شام میں بشار الاسد کی حکومت بچانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور صرف کر رہے ہیں۔ ایسی ہی "خدمات" ایرانی جنرل قاسم سلیمانی بھی انجام دے رہے ہیں۔ مسٹر سلیمانی پر بھی ماضی میں شام میں بشارالاسد کی فوج تک اسلحہ اور جنگجو پہنچانے کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔

گو کہ عراق کے وزیراعظم نوری المالکی نے امریکیوں کو یقین دلایا ہے کہ ان کے ملک کو اسلحہ کی منتقلی کے لیے ایک پُل کے طور پراستعمال نہیں کیا جا سکتا اور اگرایسی کوشش کی گئی ہے تو وہ اسے سختی سےروکیں گے، لیکن ذرائع یہ بتاتے ہیں وزیر اعظم اپنے وزیر ھادی العامری کے مشن سے بخوبی واقف ہیں اور انہوں نے ایرانی اسلحہ شام منتقل کیے جانے کے معاملے پر دانستہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔

العامری امریکی منظور نظر شخصیت

شامی صدر بشارالاسد کواسلحہ مہیا کرنے کے باعث ھادی العامری اور واشنگٹن کے درمیان تلخی پیدا ہوئی ہے ورنہ وہ امریکا کی ایک منظور نظر شخصت ہیں۔

یہ العامری ہی ہیں جنہوں نے سابق مصلوب عراقی صدر صدام حسین کا تختہ الٹنے کے لیے "البدر" بریگیڈ کے نام سے ایک عسکری تنظیم قائم کی۔ ایران اس تنظیم کی سرگرمیوں کا مرکز بنا رہا۔ البدر بریگیڈ کے جنجگوعراق میں داخل ہوتے اور تخریبی کارروائیاں کرتے۔ ایرانی مسلح افواج اور پاسداران انقلاب جنگجوؤں کو ٹریننگ دیتے اور انہیں عراق میں داخل کرنے میں بھرپور مدد کرتے تھے۔
یہی کردار ان دنوں پاسداران انقلاب کے بیرون ملک سرگرم القدس بریگیڈ نے سنھبال رکھا ہے۔ القدس بریگیڈ کے جنگجو نہ صرف شام میں بشارالاسد کی افواج کی چھتری تلے جنگ لڑ رہے ہیں بلکہ وہ بیرون ملک سے اسلحہ اور افرادی قوت بھی فراہم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس مہم میں عراقی وزیر ھادی العامری ان کے دست راست ہیں۔

العامری شام میں صدر بشارالاسد کی حکومت کی کھل کرحمایت اور مدد کا اعلان کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے شام کی خانہ جنگی کو شیعہ مسلک اور علوی قبیلے کے خلاف اعلان جنگ قرار دے رکھا رہے۔ حال ہی میں العامری نے علویوں کے تحفظ کے لیے لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے تین سو جنگجو شام بھجوانے میں مدد فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا تھا۔