.

بشارالاسد اقتدارچھوڑیں، پھر مذاکرات میں شریک ہوں گے: شامی اپوزیشن

عرب لیگ کے رکن ممالک سے شامی باغیوں کو مزید اسلحہ مہیا کرنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی حزب اختلاف کے قومی اتحاد کے سربراہ احمد الجربا نے ملک میں گذشتہ بتیس ماہ سے جاری بحران کے خاتمے کے لیے جنیوا میں مجوزہ مذاکرات میں شرکت کے لیے ایک نئی شرائط عاید کردی ہے اور کہا ہے کہ ان مذاکرات سے قبل صدر بشارالاسد کا اقتدار چھوڑنے کا ٹائم فریم دیا جائے۔

احمد الجربا نے اتوار کو قاہرہ میں عرب لیگ کے ایک ہنگامی اجلاس میں کہا کہ ''ہم نے باوقار انداز کے بغیر، مخصوص نظام الاوقات میں اقتدار کی کامیاب منتقلی اور ایران کی شرکت کی صورت میں جنیوا مذاکرات میں نہ جانے کا فیصلہ کیا ہے''۔

احمد الجربا نے ایران کو ایک قابض قوت قراردیا ہے اور کہا کہ اس کو مذاکرات کی میز پر نہیں ہونا چاہیے۔انھوں نے ایران کی حمایت یافتہ لبنان کی شیعہ جنگجو تنظیم حزب اللہ کو بلیک لسٹ قراردینے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا کہ شامی باغیوں کے خلاف لڑنے والی عراقی اہل تشیع کی ملیشیا ابوالفضل العباس بریگیڈ کو بھی دہشت گرد گروپ قراردیا جانا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ ''جب سکڈ میزائلوں اور توپ خانے سے بمباری کا سلسلہ جاری ہو اور مزید لوگوں کو گرفتار کیا جارہا ہو تو ہم مذاکرات کو قبول نہیں کرسکتے''۔انھوں نے عرب لیگ کے رکن ممالک سے شامی باغیوں کو مزید اسلحہ مہیا کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ان کا اتحاد اس بات کی ضمانت دینے کو تیار ہے کہ یہ اسلحہ غلط ہاتھوں میں نہیں جائے گا۔

احمد جربا نے عرب ممالک کے نمائندوں سے مخاطب ہوکر کہا کہ ''آپ کس چیز کا انتظار کررہے ہیں ،اس کا کہ شامیوں کا مزید خون بہ جائے اور مزید عورتوں کی آبروریزی کی جائے''۔انھوں نے عرب ریاستوں سے شامیوں کی مزید مدد کرنے کی اپیل کی اور کہا کہ بین الاقوامی برادری تو مجہول اور ناکارہ ہوچکی ہے۔

واضح رہے کہ شام کے لیے اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے مشترکہ ایلچی لخضرالابراہیمی کا کہنا ہے کہ جنیوا مذاکرات کے لیے کوئی پیشگی شرائط نہیں ہوں گی لیکن شامی حزب اختلاف ابھی تک اپنے مطالبات پر اڑی ہوئی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات سے قبل بشارالاسد مستعفی ہوں۔

شامی حزب اختلاف کے مختلف دھڑوں کے بارے میں یہ بھی کہا جارہا ہے کہ وہ اس معاملے میں یکسو نہیں ہیں اور ان کا مذاکرات سے متعلق نقطہ نظر یکساں نہیں ہے۔اس کے حوالے احمدجربا نے کہا کہ ''ہم ایک متحد گروپ کی صورت میں مذاکرات میں آنا چاہتے ہیں''۔

لخضرالابراہیمی نے اگلے روز ایک مرتبہ پھر اپنے اس مؤقف کا اعادہ کیا تھا کہ شامی حزب اختلاف کی شرکت کے بغیر جنیوا میں مجوزہ امن مذاکرات نہیں ہوں گے۔انھوں نے جمعہ کو شامی دارالحکومت دمشق میں نیوزکانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ''اگراپوزیشن شرکت نہیں کرتی ہے تو جنیوا کانفرنس نہیں ہوگی۔اس میں اپوزیشن کی شرکت ضروری، ناگزیر اور اہم ہے''۔

انھوں نے بتایا کہ شامی حکومت تو کانفرنس میں شرکت کرے گی لیکن حزب اختلاف کی جانب سے کانفرنس میں شرکت کے لیے ابھی تک کوئی یقین دہانی نہیں کرائی گئی ہے۔انھوں نے بتایا کہ ''حزب اختلاف خواہ وہ قومی اتحاد ہو یا کوئی اور کانفرنس میں نمائندگی کے طریقے ڈھونڈ رہے ہیں''۔ان کا اشارہ شامی حزب اختلاف کے بڑے قومی اتحاد کی جانب تھا لیکن وہ بشارالاسد کی رخصتی کے بغیر مذاکرات میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کرچکا ہے۔