.

مصری ٹی وی سے ڈاکٹر مرسی کے ٹرائل کے بعض حصے نشر

مقدمے کی سماعت 8 جنوری تک ملتوی،معزول صدر کو اسکندریہ جیل منتقل کرنے کی تیاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصری ٹیلی ویژن چینل نے معزول صدر محمد مرسی کی قاہرہ کے نواح میں واقع پولیس اکیڈیمی میں پیشی کے موقع پر بنائی گئی فوٹیج کے بعض حصے نشر کیے ہیں۔اس میں ڈاکٹرمرسی عدالت میں سلاخوں کے پیچھے بڑے مطمئن نظر آرہے ہیں۔

3جولائی کو مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی کے ہاتھوں برطرفی کے بعد ان کی عدالت میں یہ پہلی پیشی تھی۔اس فوٹیج کا معزول صدر کی سفید رنگ کی ایک وین میں عدالت میں آمد سے آغاز ہوتا ہے۔انھوں نے سوٹ زیب تن کررکھا ہے اور وہ گاڑی سے اترنے کے بعد اپنی جیکٹ کے بٹن درست کررہے ہیں۔

جب وہ عدالتی کمرے میں پہنچتے ہیں تو سلاخوں والے پنجرے میں جانے کے بعد اپنے مداحوں کے ساتھ اپنے ہاتھ فضا میں بلند کرکے علیک سلیک کرتے ہیں۔انھوں نے ہاتھ سے رابعہ کا نشان بھی بنایا جو اب اخوان المسلمون کی منتخب جمہوری صدر کی بحالی کے لیے جاری تحریک کی ایک علامت بن چکا ہے۔

وہ آغاز ہی میں عدالت کے جج سے مخاطب ہوکر کہتے ہیں کہ وہ ملک کے آئینی اور قانونی صدر ہیں۔اس لیے ان کے خلاف مقدمہ نہیں چلایا جاسکتا اور سبکی کا سبب بننے والے اس ٹرائل کو ختم کیا جائے۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اپنی مرضی کے خلاف عدالت میں پیش ہورہے ہیں۔

ڈاکٹر مرسی نے مدعاعلیہان کے لیے مخصوص لباس بھی پہننے سے انکار کردیا جس کے بعد عدالت نے شوروغوغا کے ماحول میں ان کے خلاف مقدمے کی مزید سماعت 8 جنوری تک ملتوی کردی۔مصری ٹی وی کے مطابق اب معزول صدر کو دوسرے بڑے شہر اسکندریہ کی جیل برج العرب میں منتقل کرنے کی تیاری کی جارہی ہے۔

العربیہ کے ذرائع کے مطابق ڈاکٹر مرسی نے عدالت میں اخوان المسلمون کے رہ نما محمد البلتاجی اور دوسرے رہ نماؤں کے ساتھ گفتگو بھی کی اور ان سے ان کا حال احوال دریافت کیا۔عدالت میں مدعاعلیہان نے مبینہ طور پر''فوجی حکمرانی مردہ باد'' کے نعرے بھی لگائے۔

ڈاکٹرمرسی کے خلاف مقدمے کی سماعت کے موقع پر قریباً بیس ہزار پولیس اہلکاروں کو پولیس اکیڈیمی کے آس پاس تعینات کیا گیا تھا۔مصر کی مسلح افواج نے قاہرہ کے میدان التحریر کی جانب جانے والے تمام راستوں کو خاردار تار لگا کر بند کردیا تھا اور وہاں بکتر بند گاڑیاں کھڑی کی گئی تھیں۔

شہر کے اس تمام مرکزی علاقے میں سکیورٹی فورسز کے اہلکار تعینات تھے اور وہاں واقع قاہرہ کی مرکزی انتظامی عمارت ''مجمع'' میں کام کرنے والے ملازمین کو آج گھروں ہی میں رہنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ادھر اسکندریہ سے مرسی کے حامیوں اور ان کے مخالفین کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات ملی ہیں جن میں دو افراد زخمی ہوگئے۔

قاہرہ کی ایک اپیل عدالت نے اتوار کو برطرف صدر کے خلاف مظاہرین کی ہلاکتوں کے مقدمے کی بند کمرے میں سماعت کا حکم دیا تھا اور اس کی کارروائی براہ راست نشر کرنے پر پابندی عاید کردی تھی۔عدالت نے صحافیوں اور فوٹوگرافروں کو بھی مقدمے کی سماعت کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا تھا۔

مصری حکام نے گذشتہ روز ڈاکٹر مرسی کے خلاف پہلے سے اعلان شدہ جگہ پولیس انسٹی ٹیوٹ کے بجائے پولیس اکیڈیمی میں مقدمہ چلانے کا فیصلہ تھا۔ ڈاکٹر مرسی کو ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعے وہاں لایا گیا تھا اور عدالت نے ان سے کہا کہ وہ اپنی پیروی کے لیے وکیل نہیں کرسکتے۔

ڈاکٹرمحمد مرسی اور اخوان المسلمون سے تعلق رکھنے والے چودہ مدعاعلیہان کے خلاف دسمبر 2012ء میں صدارتی محل کے باہر مظاہرین کی ہلاکتوں اور تشدد کی شہ دینے کے الزامات میں مقدمہ چلایا جارہا ہے۔اگر عدالت نے انھیں قصوروار قرار دے دیا تو انھیں عمرقید یا پھر سزائے موت کا سامنا ہوسکتا ہے۔