.

تیونس: حکمران جماعت اور اپوزیشن میں مذاکرات ناکام

وزیراعظم کے نام اتفاق نہ ہوا، مذاکرات معطل کر دیے: اپوزیشن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس کی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ایک ہفتے سے جاری بات چیت میں نئے وزیر اعظم کے نام پر اتفاق نہیں ہو سکا ہے۔ اس بارے میں باضابطہ طور پر اعلان بھی کر دیا گیا ہے۔

مزدور یونینوں کی فیڈریشن کے سربراہ حسین عباسی نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا '' ہم کسی ایسے نام پر متفق نہیں ہو سکے ہیں جو آئندہ حکومت کا سربراہ بن سکے، پوری کوشش رہی کہ اس بارے میں اتفاق رائَے ممکن ہو جائے لیکن ایسا نہیں ہوا ہے۔''

حسین عباسی کا کہنا تھا '' اس صورت حال میں ہم نے حکومت کے ساتھ قومی مذاکرات کو اس وقت تک معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے کہ جب تک کوئی قابل عمل بنیاد فراہم نہ ہو جائے۔ ''

خیال رہے تیونس کی حکمران اسلام پسند جماعت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا عمل 25 اکتوبر سے شروع ہوا تھا، اپوزیشن جماعتوں کا مطالبہ ہے کہ موجودہ حکومت جہادیوں کو کنٹرول نہ کرنے کی بنیاد پر مستعفی ہو جائے۔

مذاکراتی منصوبے کے مطابق نئے وزیر اعظم کا نام ہفتے کے روز تک فائنل ہونا تھا۔ اس میں ناکامی کے بعد پیر کے روز کی ڈیڈ لائن طے کی گئی لیکن اس دوران بھی اتفاق نہ ہو سکا۔

وزارت عظمی کیلے جن دو شخصیات کے نام نمایاں طور پر سامنے آئے ان میں 79 سالہ محمد عنصراپوزیشن کے حمایت یافتہ اور النہضہ کے حمایت یافتہ 88 سالہ احمد مستری ہیں۔ دونوں شخصیات عوامی سطح پر نیک نام سمجھی جاتی ہیں اور دونوں ہی حبیب بورقیبا کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔

اپوزیشن کا موقف ہے کہ مستری زیادہ ضعیف ہیں اس لیے وہ عملا کسی النہضہ کی کتھ پتلی کے طور پر ہی کام کریں گے۔ النہضہ کے مطابق احمد مستری موزوں ترین ہیں۔