.

سرطان میں مبتلا فلسطینی اسیر اسرائیلی جیل میں دم توڑ گیا

حسن الترابی خون کے سرطان میں مبتلا تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سرطان کے مرض میں مبتلا ایک فلسطینی اسیر منگل کے روز اسرائیلی جیل کے ہسپتال میں زندگی کی بازی ہار گیا۔ جیل میں انتقال کرنے والے فلسطینی اسیر کی شناخت حسن الترابی کے طور پر کی گئی ہے۔ انہیں دس ماہ قبل اسرائیلی فوج نے گرفتار کیا تھا۔ حسن الترابی کو بیس دن پہلے سرطان کا زہر پورے جسم میں پھیل جانے کے بعد صحت زیادہ خراب ہونے کی وجہ سے اسرائیلی جیل کے العفولہ ہسپتال منتقل کیا گیا۔

فلسطینی انتظامیہ نے حسن الترابی کے جیل میں انتقال کی ذمہ داری اسرائیل پر عائد کی ہے۔ حسن الترابی اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی اسیران کی صحت کے بارے میں اسرائیل کی تجاہل عارفانہ پر مبنی پالیسی کا شکار ہوا۔

فلسطینی خبر رساں ایجنسی 'معا' نے وزارت اسیران کی وکیل ھبہ مصالحہ کے حوالے سے بتایا کہ حسن الترابی خون کے سرطان میں مبتلا تھا۔ سرطان کی وجہ سے مرحوم کی جیل میں صحت غیر مستحکم چلی آ رہی تھی اور اس کے بارے میں اسرائیلی جیل سروس حکام کو آگاہ کیا گیا تھا۔

درایں اثنا اسیران کلب کے سربراہ قدورہ فارس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ حسن الترابی کا انتقال اسرائیلی جیلوں فلسطینی قیدیوں کی حالت زار کا پتا دیتا ہے۔ تل ابیب حسن الترابی کے جیل میں 'قتل' کا ذمہ دار ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حسن الترابی کا انتقال خطرے کی گھنٹی ہے اور اس عالمی اداروں کو اس صورتحال کا ادارک کرنا چاہئے کیونکہ فلسطینی اسرائیلی جیل سروس کی جانب سے جان بوجھ کر قیدیوں کی صحت کے بارے میں تساہل برت رہا ہے۔ بہت سے فلسطینی قیدی اس وقت بھی دیرینہ امراض میں مبتلا ہیں اور ان کا فوری علاج وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ایسے میں ان بیمار قیدیوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے تاکہ ان کا مناسب اور فوری علاج ممکن بنایا جا سکے۔

حسن الترابی کی جیل میں وفات کے بعد اسرائیلی جیلوں میں جاں بحق ہونے والے فلسطینی قیدیوں کی تعداد 207 ہو گئی ہے اور سن دو ہزار تیرہ میں عرفات جرادات اور مسیرہ ابو حمدیہ کے بعد حسن الترابی تیسرے فلسطینی قیدی ہیں جنہوں نے اسرائیلی زندان میں جام شہادت نوش کیا۔