.

سعودی عرب میں ہزاروں غیر قانونی تارکین وطن گرفتار

ریاض میں کئی دکانیں و مارکیٹیں بند رہی، ٹریفک کم رہی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی وزارت داخلہ اور وزارت محنت نے غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کیخلاف آپریشن کے دوران ملک بھر سے ہزاروں افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

اب تک صرف جدہ شہر سے 1899 گرفتاریاں عمل میں لائی گئی ہیں۔ جدہ سے حراست میں لیے گئے 1899 غیر قانونی تارکین وطن میں خواتین کی بھی بڑی تعداد ہے۔ دوسرا شہر جس سے جدہ سے بھی زیادہ لوگ حراست میں لیے گئے ہیں، سامتا ہے جہاں سے 2200 غیر ملکیوں کو دو دنوں میں حراست میں لیا جا چکا ہے۔

جدہ پولیس کے سربراہ میجر جنرل عبداللہ الکہتانی جو اس آپریشن کی جدہ میں نگرانی کر رہے ہیں کا کہنا ہے کہ ''اس سلسلے میں دکانوں، کمپنیوں اور فیکٹریوں کا بھی معائنہ کیا جا سکتا ہے، تاہم یہ شعبہ وزارت محنت کے تحت آتا ہے۔''

العربیہ کے ذرائع کے مطابق حکومت نے غیر قانونی طور پر رہنے والے تارکین وطن کے خلاف یہ آپریشن بغیر کسی تخصیص کے پورے سعودی عرب میں شروع کیا ہے۔ اس لیے اس کی زد میں تمام صنعتی و غیر صنعتی مراکز آ رہے ہیں۔ اس آپریشن میں تمام متعلقہ سرکاری ایجنسیاں اور ادارے باہم رابطے میں ہیں۔

نمائندوں کی اطلاعات کے مطابق کئی شہروں کی گلیاں مکمل خاموش نظر آئیں، جبکہ دارالحکومت ریاض میں ٹریفک کے غیر معمولی رش کے اوقات میں بھی ٹریفک میں کمی کا تاثر رہا۔ اس موقع پر مارکیٹیں اور دکانیں بھی بھی مقامات پر بند رہیں۔

ریاض میں یہ مناظر بھی دیکھنے کو ملے کہ جیسے ہی پولیس کی گاڑیوں نے ہوٹر بجائے بھگدڑ مچ گئی۔ ایک شامی باشندے ابو صفوات جس کی سپئیر پارٹس کی دکان ہے نے اس صورتحال کو برا قرار دیتے ہوئے کہا آج اس کی دکان پر کوئی گاہک نہیں آیا ہے۔

ایک ویزا آفس کے باہر لمبی قطار لگی تھیں جس مطلب ہے کہ لوگ اضافی فیس اور کسی مشکل سے پیشگی بچنے کی کوشش میں ہیں۔

واضح رہے سعودی حکومت نے اس بارے میں ماہ اپریل میں اعلان کیا تھا اور مجموعی طور پر غیر قانونی طور پر مقیم افراد کو سات ماہ کی مہلت دی تھی کہ وہ اپنے قیام کے جواز کو قانونی شکل دے لیں۔