.

عرب لیگ: جنیوا ٹو کی حمایت، شامی اپوزیشن سے شرکت کا مطالبہ

ایران شریک ہوا تو امن مذاکرات میں حصہ نہیں لیں گے: احمد الجربا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عرب لیگ نے شام میں قیام امن اور عبوری حکومت کی تشکیل کی خاطر امکانی جنیوا ٹّو امن مذاکرات کی حمایت کرتے ہوئے شامی اپوزیشن پر زور دیا ہے کہ جنیوا ٹو میں حصہ لے تاکہ مذاکرات کامیاب ہو سکیں۔

شامی اپوزیشن کے سربراہ احمد الجربا جنہیں سعودی عرب سے قریب تر سمجھا جاتا ہے ایسے کسی مذاکرات کے حق میں نہیں جن میں بشارالاسد کا اتحادی ایران موجود ہو۔ اس بارے میں عالمی طاقتوں اور شامی اپوزیشن میں ایران کی جنیوا ٹو میں شرکت پر بھی واضح اختلاف ہے۔

تاہم عرب لیگ کے وزرائے خارجہ کے حالیہ اجلاس کے بعد جاری کیے گئے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ شام کی اپوزیشن جماعتیں ایک ایسے وفد کی تشکیل کریں جو جنیوا ٹو میں شرکت کرے۔

واضح رہے سعودی عرب اور قطر کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ یہ دونوں ملک شام میں لڑنے والے الگ الگ گروپوں کی حمایت کرتے ہیں۔ عرب لیگ کے مطابق ان چیزوں سے بالاتر ہو کر شامی اپوزیشن کو احمد الجربا کو جنیوا ٹو کیلیے اپنا نمائندہ بنا کر بھیجنا چاہیے۔

جبکہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ شامی اپوزیشن ان متحارب گروپوں پر کم اثرات رکھتی ہے جو بشار رجیم کے خلاف لڑائی میں مصروف ہیں ۔ کیوںکہ ان گروپوں میں اسلام پسند اور القاعدہ نے منسلک گروپ بھی شامل ہیں۔

احمد الجربا جو کہ سعودی عرب کے قریب ہیں نے عرب لیگ کو بتا دیا ہے کہ جنیوا ٹو میں ایران نے شرکت کی تو شامی اپوزیشن شرکت نہیں کرے گی۔