.

اقتدار چھوڑنے کے لیے جنیوا نہیں جائیں گے:شامی رجیم

امن کانفرنس کا مقصد اگربشارالاسد کی رخصتی ہے تو اس میں شرکت نہیں کریں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی وزیراطلاعات عمران الزعبی نے کہا ہے کہ اگر جنیوا میں مجوزہ امن کانفرنس کا مقصد بشارالاسد کی رخصتی ہے تو شامی رجیم اس میں شرکت نہیں کرے گا۔

شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی سانا کی جانب سے منگل کو جاری کردہ بیان کے مطابق انھوں نے کہا کہ ''فی الوقت مجوزہ جنیوا دوم کانفرنس میں ملک میں جاری بحران کے سیاسی حل پر توجہ مرکوز کی جارہی ہے۔صدر بشارالاسد بدستور سربراہ ریاست رہیں گے''۔

شامی وزیراطلاعات کا یہ بیان امریکی وزیرخارجہ جان کیری کی سعودی ہم منصب شہزادہ سعودالفیصل سے ملاقات کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے۔دونوں وزرائے خارجہ نے اس بات سے اتفاق کیا تھا کہ شام میں عبوری دور کے لیے نئی حکومت میں صدر بشارالاسد کا کوئی کردار نہیں ہونا چاہیے۔

جان کیری نے کہاکہ''بشارالاسد اب حکمرانی کا ہرجواز کھوچکے ہیں،انھیں جانا ہوگا''۔انھوں نے شام میں قیام امن کے لیے سعودی عرب کے عزم کو سراہا۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ شام میں جاری بحران فوجی قوت کے استعمال سے ختم نہیں ہوگا۔

امریکی وزیرخارجہ اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاروف اوراقوام متحدہ اورعرب لیگ کے مشترکہ ایلچی لخضرالابراہیمی کے ساتھ مل کر جنیوا میں امن کانفرنس کے انعقاد کے لیے کوششیں کررہے ہیں۔اس ضمن میں وہ گذشتہ سال منعقدہ کانفرنس کے موقع پرطے پائے اتفاق کے مطابق شام میں بشارالاسد کے بغیر عبوری حکومت کے قیام کے لیے بھی کوشاں ہیں۔ جنیوا اول میں یہ کہا گیا تھا شام میں ایک عبوری حکومت قائم کی جانی چاہیے۔

شام میں صدر بشارالاسد کی وفادار فورسز کے خلاف برسر پیکار مسلح باغی جنگجو گروپ جنیوا مذاکرات میں شرکت کی مخالفت کررہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اگر ان مذاکرات کے نتیجے میں صدر اسد کی رخصتی نہیں ہوتی ہے تو پھر یہ لاحاصل ہی رہیں گے۔انھوں نے اس مجوزہ کانفرنس میں شرکت کرنے والوں کو خطرناک نتائج کی دھمکی دی ہے۔

شامی حزب اختلاف بھی بشارالاسد کی رخصتی کے بغیر جنیوا کانفرنس میں شرکت کی مخالفت کررہی ہے۔حزب اختلاف کے قومی اتحاد کے سربراہ احمدالجربا نے عرب لیگ کے حالیہ اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے ملک میں گذشتہ بتیس ماہ سے جاری بحران کے خاتمے کے لیے جنیوا میں مجوزہ مذاکرات میں شرکت کے لیے یہ شرط عاید کی ہے کہ ان سے قبل صدر اسد کا اقتدار چھوڑنے کا ٹائم فریم دیا جائے۔