.

اخوان المسلمون پر پابندی کیخلاف اپیل خارج

مرسی کی برطرفی کے بعد انکی جماعت پر پابندی لگائی گئی تھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصری عدالت نے مصر کی سب سے بڑی سیاسی جماعت اخوان المسلمون پر پابندی کیخلاف دائر کردہ اپیل مسترد کر دی ہے۔ اخوان المسلمون پر پابندی اس کے حمایت یافتہ مصر کے پہلے منتخب صدر محمد مرسی کی برطرفی کے تقریبا دو ماہ بعد لگائی گئی تھی۔

اخوان المسلمون مصر میں غیر معمولی اثرات رکھنے والی سب سے پرانی سیاسی جماعت ہے جس کے سماجی خدمت کے اداروں سے بھی ہزاروں لوگ وابستہ ہیں اور دنیا بھر میں اس کے ممبران پھیلے ہوئے ہیں۔

اخوان المسلمون کے مرشد عام محمد بدیع، ان کے نائبین اور دیگر اہم قائدین سمیت دو ہزار سے زائد اخوانی کارکن جیلوں میں بند ہیں۔ ان تمام قائدین کو قتل کے مقدمات کا سامنا ہے، جبکہ اخوان کے حمایت یافتہ معزول صدر محمد مرسی کو بھی نظر بندی کے بعد قتل کے الزام کی زد میں لایا گیا ہے۔

واضح رہے عالمی برادری مصر کی عبوری حکومت سے تمام سیاسی جماعتوں اور مکتبہ ہائے فکر کو ساتھ لے کر چلنے کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔