.

رواں سال کے اختتام تک جنیوا 2 ممکن بنا لیں گے: ابراہیمی

عالمی طاقتیں امن کانفرنس کیلیے پیشگی شرائط لگانے کے حق میں نہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کیلیے اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے مشترکہ نمائندے الاخضر ابراہیمی نے اعتراف کیا ہے کہ شام میں قیام امن کی خاطر مجوزہ کانفرنس جنیوا ٹو کیلیے بھی کوئی تاریخ مقرر نہیں کی جا سکی ہے۔ ان کا کہنا ہے ''ہمیں امید تھی کہ ہم آج اس بارے میں کسی نتیجے پر پہنچ کر تاریخ کا اعلان کر سکیں گے، لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔''

ابراہیمی نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا '' ہم اب بھی پر امید ہیں کہ ہم اس سال کے اختتام سے قبل جنیوا امن کانفرنس کے انعقاد میں کامیاب ہو جائیں گے۔'' ان کا مزید کہنا تھا وہ 25 نومبر کو امریکی اور روسی نمائندوں سے دوبارہ ملاقات کریں گے۔''

واضح رہے الاخضر ابراہیمی چند روز قبل ہی مشرق و سطی کے دورے سے واپس آئے ہیں اور انہوں جنیواٹو کیلیے تمام متعلقہ فریقوں سے تفصیلی بات چیت کی ہے، تاہم شامی اپوزیشن اپنے موقف پر قائم ہے۔

اس صورتحال میں شام کے صدر بشار الاسد نے بھی ابھی تک ایسا کوئی اشارہ نہیں دیا ہے کہ وہ امن کانفرنس کی کامیابی کے لیے اقتدار چھوڑنے کو تیار ہیں۔ جبکہ ان کی اپوزیشن اقتدار سے بشارالاسد کی علیحدگی کے بعد ہی امن کانفرنس میں جانے پر آمادہ ہونے کی بات کرتی ہے۔

ابراہیمی نے اس موقع پر کہا عالمی طاقتوں کا کہنا ہے کہ امن کانفرنس میں شرکت سے پہلے اس نوعیت کی پیشگی شرائط عاید کرنا درست نہیں ہے۔

ابراہیمی کے مطابق ''شامی اپوزیشن کو اندرونی اختلافات کا سامنا ہے، اس بارے میں روسی وزیر خارجہ بھی کہہ چکے ہیں کہ اپوزیشن جنیوا میں جاری کیے گئے اعلامیے کے خلاف موقف اختیار کیے ہوئے ہے۔''