.

غیر ملکیوں کیخلاف آپریشن، سعودی شہری مشکلات میں گھر گئے

ہوٹل اور لانڈری شاپس بند، فوت شدگان کو غسل دینے والے کارکن غائب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں روزگار کیلیے موجود غیر قانونی تارکین وطن کیخلاف تیسرے روز سے جاری آپریشن نے جہاں غیر ملکیوں کو خوف کا شکار بنا دیا ہے وہیں خود سعودی عوام انتہائی بنیادی سہولیت سے بھی محروم ہو نے لگے۔

تین دن سے جاری آپریشن کی وجہ سے غیر ملکی خدام گھروں میں دبک کر رہ گئے ہیں، جبکہ ان دنوں میں فوت شدگان کو غسل دینے والے کار کن بھی ملنا مشکل ہو گئے ہیں۔ سعودی عرب کے صنعتی و تجارتی شہر جدہ میں بدھ کے روز ایک درجن سے زائد جگہوں پر اس مسئلے کا سامنا کرنا پڑا۔

آپریشن کے دوسرے اور تیسرے روز بھی سعودی شہروں کے کوچہ و بازار اور سڑکیں نسبتا کم رش کے سا تھ نظر آئیں۔

جدہ کے ایک رہائشی نے اس صورت حال پر کہا '' جس طرح دکانیں اور مارکیٹیں بند ہیں اس سے لگتا ہے کہ پورا ملک قانون شکنوں سے بھرا ہوا ہے، گلیاں، ریستوران خالی ہیں، اللہ ہماری مدد کرے۔''

جزان میں سعودی شہریوں کا کہنا تھا '' کہ وہ دفاتر میں استری کے بغیر کپڑے پہن کر آئے ہیں، ان شہریوں کا کہنا تھا کہ اکثرغیر ملکیوں کیخلاف جاری آپریشن کے باعث لانڈری شاپس بھی بند پڑی ہیں، کپڑے دھلانا بھی ممکن نہیں رہا۔

میتوں کے غسل کیلیے خدمات دینے والے خیراتی منصوبے کے ڈائریکٹر محمد فوزی مولوی کا کہنا ہے کہ میتوں کو غسل دینے والے کارکن یا تو ڈرائیور ہیں یا اسی طرح کی دوسری ملازمتوں پر ہیں، ان دنوں ان سے رابطہ نہیں ہو رہا ہے۔ اس لیے بہت سے لوگ اپنے فوت ہونے والے عزیزوں کی میتوں کو مکہ لے جا رہے ہیں تاکہ غسل دلوا سکیں۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق جزان اور بعض دوسرے شہروں میں ساٹھ فیصد فروٹ شاپس، فوڈ شاپس اور دیگر دکانیں بند ہو گئی ہیں، جس سے عام لوگوں کو بنیادی ضرورتوں کے پورا حاصل کرنے میں سخت مشکلات کا سامنا ہے۔

ایک اور شہری عبدالرحمان نشیلی کا ان مشکلات کے حوالے سے بتایا کہ '' میں نے چار گھنٹے سے زائد تک ایک ریستوران کے باہر کھانے کے لیے انتظار کیا اس سے پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا ہے۔''

دریں اثناء پورے سعودی عرب میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کو'' ڈی پورٹ ''کرنے کیلیے آپریشن مسلسل جاری ہے۔ واضح رہے صرف پہلے روز پانچ ہزار غیر ملکی گرفتار کیے گئے تھے۔ ان میں جزان سے گرفتار کیے گئے 3607 جدہ سے 2000 سے زاید گرفتار ہو چکے ہیں جبکی آسر کے علاقے سے گیارہ سو سے زاید غیر ملکی افراد گرفتار ہوئے ہیں۔