.

کیمیائِی ہتھیار شام سے باہر تلف کرنا بہتر ہے: او پی سی ڈبلیو

شام سے باہر تلفی پر امریکا اور روس کا بھی اتفاق ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی کے لیے سرگرم بین الاقوامی ادارے او پی سی ڈبلیو کی طرف سے کہا ہے کہ شامی کیمیاِئی ہتھیاروں کی تلفی شام سے باہر کسی دوسری جگہ کیا جانا زیادہ قابل عمل راستہ ہو گا۔ اس امر کا اظہار ادارے کے ایک اجلاس کے دوران شام میں جاری اپنے مشن کے ذمہ دار نے رپورٹ پیش کرتے ہوئے کیا ہے۔

کیمیائِی ہتھیاروں کے خاتمے کیلیے سرگرم اس ادارے کو 2014 کے وسط تک شام سے کیمیائِی ہتھیاروں کا ختمہ کرنے کا ہدف دیا گیا ہے۔

احمد ازمک کا اجلاس کے دوران کہنا تھا کہ '' شام بھی یہی چاہتا ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی شام سے باہر دوسری جگہ منتقلی کے بعد کی جائَے۔ کیونکہ پورے ملک میں بکھرے پچاس مقامات پر 1000 ٹن کیمیائی ہتھیروں کو جنگ زدہ ماحول جہاں اب بھی متحارب فورسز حالت جنگ میں ہیں موزوں طریقے سے تلفی ممکن نہیں ہو سکتی ہے۔

واضح رہے اس سے پہلے روس کی طرف سے بھی یہی موقف سامنے آ چکا ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی شام سے باہر کی جائَے۔ جبکہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے بھی اسی خواہش کا اظہار کیا ہے کہ کیمیائی ہتھیار شام سے باہر لے جاکر جلد سے جلد تلف کیے جائیں۔ امریکی وزیر خارجہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ''ان ہتھیاروں کی تلفی تکنیکی اعتبار سے ایک بڑا چیلنج ہو گی اور یہ ایک پرخطر کام ہو گا۔''

اقوام متحدہ کی قرارداد 2118 جس میں شام کے کیمیائی ہتھیاروں کا ذکر میں کہا گیا ہے کہ ان ہتھیاروں کو جلد سے جلد اور محفوظ ترین طریقے سے ختم کرنے کیلیے کہا گیا ہے۔