.

کیمیائی ہتھیاروں کی پیش کردہ فہرست پر امریکی شکوک

امریکی ماہرین فہرست کے مکمل ہونے کا جائزہ لے رہے ہیں: سامناتھ پاور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا شام کی طرف سے کیمیائی ہتھیاروں کے بارے میں پیش کردہ معلومات کو شک و شبہ سے بالاتر نہیں سمجھتا ہے، وجہ شام کے صدر بشارالاسد کے ساتھ ڈیل کرنے کے ماضی کے تجربات ہیں۔ اس امر کا اظہار اقوام متدہ کیلیے امریکی نمائندہ سامناتھ پاور نے کیا ہے۔

امریکی نمائندہ کا کہنا تھا امریکی ماہرین سات سو صفحات پر مشتمل شام کے اس اعلامیے کا جائزہ لے رہے ہیں جو کیمیائی ہتھیاروں کے امتناع کیلیے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیم کو فراہم کیا گیا ہے۔

واضح رہے شام کے صدر بشارالاسد کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی پر اتفاق کر چکے ہیں، کہ شام کے یہ تباہ کن ہتھیار اگلے سال کے وسط تک ختم کر دیے جائیں۔ شام کیمیائی ہتھیاروں کی تیاری کیلیے استعمال ہونے والے تمام آلات کی تباہی میں مدد دے چکا ہے۔

تاہم امریکی نمائندہ برائے اقوام متحدہ کے مطابق امریکا یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ آیا شام کی طرف سے پیش کردہ دستاویز ان تمام کیمیائی مراکز کا احاطہ کرنے والی ایک جامع رپورٹ ہے یا معاملہ اس کے برعکس ہے۔ کیونکہ امریکی نمائندہ سامناتھ پاور کے مطابق شام کا ماضی قابل بھروسہ نہیں ہے۔

امریکا کو شبہ ہے کہ شام اپنے کیمیائی ہتھیاروں کا کچھ حصہ محفوظ رکھنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ سامناتھ پاور کا کہنا ہے ''اس شک کو تقویت دینے والے کچھ شواہد بھی سامنے آئے ہیں کہ شامی رجیم کچھ کیمیائی ہتھیار اپنے کنٹرول میں رکھنا چاہتی ہے۔

امریکی نمائندہ کے مطابق امتناع کیمیائی ہتھیار سے متعلق بین الاقوامی تنظیم اور اس کی ورکنگ پر کوئی شبہ نہیں ہے بلکہ پورا اعتماد ہے اگر کسی طرح کی کوئی کوتاہی ہوئی تو اسے سفارتی طریقے سے دیکھ لیا جائے گا۔ سامناتھ پاور کا کہنا ہے کہ '' ہمارے بعض حکام سمجھتے ہیں کہ شامی رجیم تمام کیمیائی ہتھیار ختم نہیں کرنے دے گی۔"