.

ڈاکٹر مرسی ناسازیٔ طبع کی بنا پر جیل کے اسپتال میں!

برج العرب جیل منتقلی کے بعد بلند فشارخون اور بلڈ شوگر کی شکایت پر طبی معائنہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے برطرف صدر ڈاکٹر محمد مرسی نے طبیعت ناساز ہونے کے بعد جیل کے اسپتال میں پہلی رات گزاری ہے۔انھوں نے اپنی طبیعت خراب ہونے کی شکایت کی تھی لیکن مصر کی وزارت داخلہ نے اس بات کی تردید کی ہے کہ وہ بیمار ہیں۔

وزارت داخلہ نے منگل کو ایک بیان میں کہا ہے کہ باسٹھ سالہ معزول صدر کا طبی معائنہ کیا گیا ہے اور اس کے بعد انھیں جیل کی کوٹھڑی میں منتقل کردیا جائے گا۔وہ گذشتہ روز قاہرہ میں پولیس اکیڈمی میں اپنے خلاف مقدمے کی پہلی سماعت سے قبل کسی نامعلوم مقام پر زیرحراست تھے۔

انھیں گذشتہ روز ہی عدالت میں پیشی کے بعد ہیلی کاپٹر کے ذریعے ملک کے دوسرے بڑے شہر اسکندریہ کے نزدیک واقع ہائی سکیورٹی والی جیل برج العرب میں منتقل کیا گیا ہے۔مصری حکام کے مطابق ڈاکٹر مرسی نے جیل پہنچنے کے بعد بلند فشار خون اور بلڈ شوگر کی شکایت کی تھی۔وہ مختلف امراض کا شکار ہیں اور انھوں نے اپنے مختصر دورصدارت میں ایک موقع پر صحافیوں کو بتایا تھا کہ وہ ذیابیطس کے مریض ہیں۔سنہ 2000ء میں ان کا السر کا آپریشن ہوا تھا اور 2008ء میں ان کے سر کی سرجری ہوئی تھی۔

برج العرب مصر کی نئی تعمیر کردہ جیلوں میں سے ایک ہے ۔یہ 2004ء میں پچاس ایکڑ رقبے پر تعمیر کی گئی تھی اور یہ انتہائی سکیورٹی والی جیل مانی جاتی ہے۔یہ اسکندریہ اور مغربی ساحلی شہر مرسہ مطروح کو آپس میں ملانے والی شاہراہ پر واقع ہے۔

جیل میں سکیورٹی فورسز کا ایک خصوصی دستہ تعینات ہے ۔جیل کی دوعمارتیں ہیں۔ایک زیرحراست افراد کے لیے مخصوص ہے جنھیں ابھی سزا نہیں سنائی گئی اور دوسری سزایافتہ قیدیوں کے لیے ہے۔ان دونوں عمارتوں کے گرداگرد الگ الگ بلند دیواریں بنائی گئی ہیں جس کی وجہ سے اس جیل سے بھاگنا یا اس پر حملہ آور ہونا بہت مشکل ہے۔

مصری حکام نے برطرف صدر کو تو برج العرب میں منتقل کردیا ہے لیکن ان کے شریک مدعاعلیہان اور اخوان المسلمون کے لیڈروں کو قاہرہ کی انتہائی سکیورٹی والی جیل میں منتقل کیا گیا ہے تا کہ وہ آپس میں رابطے میں نہ رہیں۔

ڈاکٹر مرسی نے جیل میں قیدیوں کے لیے مخصوص لباس پہننے سے انکار کردیا ہے۔انھوں نے گذشتہ روزعدالت میں پیشی کے موقع پر بھی مدعاعلیہان کے لیے مخصوص لباس پہننے سے انکار کردیا تھا اور وہ ججوں سے بلند آواز میں مخاطب ہوتے رہے تھے۔

انھوں نے آغاز ہی میں عدالت کے جج سے مخاطب ہوکر کہا کہ وہ ملک کے آئینی اور قانونی صدر ہیں۔اس لیے ان کے خلاف مقدمہ نہیں چلایا جاسکتا اور سبکی کا سبب بننے والے اس ٹرائل کو ختم کیا جائے۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اپنی مرضی کے خلاف عدالت میں پیش ہورہے ہیں۔عدالت میں ان کے ساتھی مدعاعلیہان بھی جج کے سامنے بآواز بلند بولتے رہے تھے اور انھوں نے مبینہ طور پر''فوجی حکمرانی مردہ باد'' کے نعرے بھی لگائے۔اس کے بعد شوروغوغا کے ماحول میں جج نے ان کے خلاف مقدمے کی مزید سماعت 8 جنوری تک ملتوی کردی۔

ڈاکٹرمحمد مرسی اور اخوان المسلمون سے تعلق رکھنے والے چودہ مدعاعلیہان کے خلاف دسمبر 2012ء میں صدارتی محل کے باہر مظاہرین کی ہلاکتوں اور تشدد کی شہ دینے کے الزامات میں مقدمہ چلایا جارہا ہے۔اگر عدالت نے انھیں قصوروار قرار دے دیا تو انھیں عمرقید یا پھر سزائے موت کا سامنا ہوسکتا ہے۔