.

باسم یوسف کی مقتدر شخصیات پر تنقید، ''البرنامج'' کی ریکارڈنگ بند

اداکار پر پابندی کی عبوری حکومت کے حامیوں نے بھی مخالفت کی تھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے معروف کامیڈین باسم یوسف کے پروگرام ''البرنامج'' کو آن ائیر ہونے سے روکے جانے کے خلاف باسم یوسف کے حامیوں نے شدید ردعمل کے باوجود پابندی کو آگے بڑھاتے ہوئے پروگرام کی ریکارڈنگ روک دی ہے۔ ذرائع نے''العربیہ'' کو بتایا کہ ''البرنامج'' پروگرام کی نئی قسط ابھی تک تیار نہیں ہوئی ہے۔

سی بی سی چینل نے واضح کیا کہ باسم یوسف کا پروگرام چینل کی پالیسیوں کے خلاف تھا جس وجہ سے اسے فوری طور پر بند کر دیا گیا ہے۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ پروگرام کی نئی قسط بدھ کے روز ریڈیو تھیٹر قاہرہ میں تیار کی جانی تھی مگر عین وقت پر پروگرام کا عملہ نہ پہنچا جس وجہ سے پروگرام کی نئی قسط کی ریکارڈنگ نہ ہو سکی۔

پروگرام کی نئی قسط کی معطلی پر بات کرتے ہوئے پروڈکشن کمپنی "کیو سافٹ" نے اس امر کا اظہار کیا کہ یہ بات پہلے سے طے ہے کہ پروگرام کو تیار کرنے کے بعد سی بی سی چینل کے سپرد کیا جائے گا۔ پروڈکشن کمپنی نے اس امید کا اظہار کیا کہ جلد ہی تمام تنازعات دور کر لیے جائیں گے پروگرام کو معمول کے مطابق جاری رکھا جائے گا۔

باسم یوسف جنہیں مشہور امریکی کامیڈین جان اسٹورٹ سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ متحدہ عرب امارات پہنچنے کے بعد سے انہوں نے اس تمام واقعے پر مکمل طور پر خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ان کے حالیہ دورے کا تعلق اپنے پروگرام کی معطلی سے بالکل نہیں ہے۔

باسم یوسف نے سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی ان تمام خبروں کی تردید ہے جن سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ''البرنامج'' پروگرام کی نئی قسط نشر کر دی گئی ہے۔ باسم یوسف نے واضح کیا کہ ایسا کچھ نہیں بلکہ وہ قسط تازہ نہیں پرانی تھی۔

دلچسپ بات ہے کہ معزول صدر مرسی کے کٹر مخالف اور تمرد [باغی] تحریک کے بانی محمد بدر نے بھی باسم یوسف کے ٹی وی پروگرام کی بندش کی ٘مخالفت کی تھی۔ تمرد تحریک کے بانی محمد بدر نےا پنے ٹوئٹر پیغام میں لکھا تھا کہ '' ہم باسم یوسف اور آزاد میڈیا کے ساتھ ہیں۔''

اس سے پہلے بھی حکومت احمد الحلمی نامی ایک کامیڈین کو انہی بنیادوں پر پابندیوں کا نشانہ بنا چکی ہے۔ اس حوالے سے اپنے ٹوئٹر پیغام میں لکھا ہے ''ایک رجیم جو فنکاروں سے خوف کھاتی ہو اور انہیں کام سے روکتی ہو وہ درحقیقت ایک ناکام رجیم ہوتی ہے۔''

''باسم کے پرستاروں نے اس کا پروگرام بند کیے جانے پر افسوس کا اظہار کیا ہے، سابق عبوری نائب صدر محمد البرادعی نے بھی اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا ہے کہ ''آزادی اظہار انتہائی اہم ہے۔''