.

سیف الاسلام قذافی، حراست کے دو سال، فوٹیج سامنے آ گئی

جنگی جرائم کی عدالت، حکومت اور سابقہ باغیوں میں حوالگی پر اختلاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے سابق حکمران معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام حراست کے دوسال مکمل ہونے پر طویل عرصے کے بعد اس کی فوٹیج ٹی وی پر دکھائی گئی ہے۔ سیف الاسلام جنگی جرائم کی عالمی عدالت کو مطلوب ہے اور ان دنوں لیبیائی دارالحکومت کے جنوب مشرقی علاقے کی جیل میں قید ہے۔

ٹی وی پر نشر کی گئی فوٹیج میں اسے تین سوالوں کے مختصر جواب دیتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ان سوالوں کے جواب دیتے ہوئے اس نے تصدیق کی ہے کہ اسے جیل میں ملا قات کی اجازت ہے اور اس کی صحت اچھی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں سیف الاسلام نے کہا اس کے خلاف زنتان میں مقدمہ چلائے جانے میں کوئی قباحت نہیں ہے کیونکہ زنتان بھی لیبیا کا ہی شہر ہے۔ اس لیے طرابلس اور زنتان میں کوئی فرق نہیں ہے۔

انٹرویو کرنے والے صحافی کے مطابق پہلے سیف الاسلام نے بات کرنے سے انکار کر دیا تھا، تاہم بعد میں اس نے صرف تین سوال کرنے کی اجازت دے دی۔ سابق حکمران کے بیٹے نے اس دوران اپنی ایک انگلی سے اپنے ٹوٹ جانے والے دانت کی خالی جگہ کو چھپانے کی کوشش کی۔ سیف الاسلام کیمرے کے سامنے گھبراہٹ کا اظہار کر رہا تھا۔

واضح رہے سیف الاسلام کی گرفتاری کو اس ماہ نومبر کو دوسال ہو رہے ہیں اور وہ تب سے اسی سابقہ باغی سکیورٹی ذمہ دار عجمی العطیری کی نگرانی میں ہے جس نے اس کی گرفتاری ممکن بنائی تھی۔

واضح رہے سیف الاسلام سمیت اس کے مقتول والد معمر قذافی کے تقریبا 30 ساتھیوں کے خلاف پچھلے ماہ اکتوبر میں طرابلس کی ایک عدالت میں الزامات عاید کیے گئے تھے۔ لیکن معمر قذافی کے سابقہ باغی گروپ نے اسے طرابلس منتقل کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

طرابلس کی عدالت میں سیف کو پیش کرنے سے انکار کے روز ہی سابقہ باغیوں نے اسے زنتان کی عدالت میں پیش کر دیا جہاں اس پر ملکی سلامتی کو نقصان پہنچانے کا مقدمہ دائر کیا گیا۔

اس سے پہلے جنگی جرائم کی عدالت کو مطلوب سیف الاسلام کے خلاف جنگی جرائم کا مقدمہ لیبیا میں چلانے کا مطالبہ کیا تھا لیکن عالمی عدالت نے لیبیا کی حکومت کا یہ مطالبہ ماننے سے انکار کر دیا تھا کہ لیبیا میں انصاف کے تقاضے پورے ہونے پر عالمی عدالت کو بھروسہ نہیں تھا۔