.

لبنانی حزب التوحید کا شام میں عسکری مداخلت کا اعتراف

وادی گولان کے سرحدی قصبے سے جیش الحر پسپا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان میں سرگرم عسکری تنظیم"حزب التوحید العربی" نے شام کے محاذ جنگ پر مبینہ عسکری مداخلت کااعتراف کیا ہے۔ تنظیم کا دعوی ہے کہ جیش الحر کے ساتھ لڑائی میں باغیوں کے ہاتھوں اس کے متعدد جنگجو بھی مارے جا چکے ہیں۔

حزب التوحید العربی کی جانب سے جاری ایک بیان میں شام میں باغیوں کے ساتھ جھڑپ میں مارے جانے والے تنظیم کے جنگجوؤں کی ہلاکت پرافسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہیں خراج عقیدت پیش کیا ہے۔

العربیہ ٹی وی نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ سخت گیر لبنانی گروپ حزب التوحید کی جانب سے شام کے میدان جنگ میں لڑنے کا یہ پہلا باضابطہ اعتراف ہے۔ جس سے یہ ثابت ہوا ہے کہ شام میں بشارالاسد کی حمایت میں لڑنے والی لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے علاوہ حزب التوحید بھی شامل ہے۔

درایں اثناء وادی گولان کے علاقے جبل الشیخ میں تل حربون کے مقام پر باغی فوجیوں نے قبضے کے بعد پسپائی اختیار کرلی ہے۔ قبل ازیں جیش الحر نے سرکاری فوج کےاسلحہ کے بھاری ذخیرے پر قبضہ کرلیا تھا، تاہم اسد نواز ملیشیا کے تباہ کن حملوں اور فضائی بمباری کے بعد جیش الحرکے اہلکاروں کو پسپا ہونا پڑا ہے۔ قبضے میں لیے گئےاسلحہ میں بھاری ہتھیار اور درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے توپیں بھی شامل تھیں۔

خیال رہے کہ جبل الشیخ وادی گولان کے اسرائیلی مقبوضہ علاقے کے قریب واقع ہے۔ اسرائیلی سرحد سے متصل قصبے حضر، عرنہ اور حرفا دفاعی اعتبار سے نہایت اہمیت کے حامل سمجھے جاتے ہیں۔ ان قصبوں میں دروز قبیلے کے افراد کی اکثریت قیام پذیر ہے۔ قبیلے کے بعض افراد نے سرکاری فوج کے خلاف مزاحمتی گروپ بھی بنا رکھے ہیں۔

سرحدی قصبوں سے جیش الحر کی پسپائی کے بعد دیگرجنگجو گروپوں کی مداخلت کا خدشہ بڑھ گیا ہے، جس سے مقامی آبادی ایک مرتبہ پھر خوف کا شکار ہے۔

حزب التوحید کی جانب سے جاری تعزیتی بیان میں بتایا گیا ہے کہ تنظیم کے کارکن جبل الشیخ میں عرنہ قصبے میں جیش الحرکے ہاتھوں مارے گئے ہیں۔ بیان میں شامی باغیوں کو دھمکی دی گئی ہے کہ حزب التوحید اپنے کارکنوں کی ہلاکت کا بدلہ لے گی، تاہم اس سلسلے میں جیش الحرکی جانب سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔