.

مذاکرات مشکل ہیں مگر معاہدے کا یقین ہے: جواد ظریف

ایرانی جوہری پروگرام، جنیوا مذاکرات کا دوسرا دور شروع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے جوہری پروگرام کے سلسلے میں آج جنیوا میں شروع ہونے والے مذاکرات کے دوسرے دور کو ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے مشکل قرار دیا ہے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ مشکلات کے باوجود معاہدہ پا سکتا ہے۔

گزشتہ ماہ ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں دنیا کے چھ بڑے ملکوں کے ساتھ شروع ہونے والی بات چیت کو مغربی ممالک نے کافی مثبت آغاز قرار دیا تھا۔

اب دوسرے دور کے آغاز سے قبل ایران کی نائب وزیر خارجہ کی قیادت ایک وفد نے مختلف ملکوں اور عالمی اداروں کے ذمہ داروں سے تصیلی تبادلہ خیال بھی کیا ہے۔ لیکن امریکا ایران کی باتوں سے زیادہ عمل اقدامات پر زور دے رہا ہے۔

ایران نے متعدد مرتبہ اپنے جوہری پروگرام کو مکمل پرامن قرار دیا ہے۔ اگرچہ ایرانی ناقدین اس کے دعووں کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایرانی وزیرخارجہ نے ان مذاکرات کو مشکل قرار دیا ہے۔

اس سے پہلے ایران کے مذہبی پیشوا علی خامہ ای کہہ چکے ہیں کہ جو چکے ہیں کہ وہ زیادہ پرامید نہیں ہیں۔ لیکن ایرانی وزیر خارجہ پرامید ہونے کا اس کے باوجود اظہار کیا کہ وہ مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے اپنے فیس بک پر لکھا ہے'' کہ جمعرات کی صبح کا ناشتہ یورپی یونین کے خارجہ امور کی نگران کیتھرائن آشٹن کے ساتھ ہو گا، اسی طرح ان کی جنیوا میں الاخضر ابراہیمی اور بعض دگر ذمہ داران سے بھی ملاقات ہو گی۔

ایرانی وزیر خارجہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا '' مجھے یقین ہے کہ اسی ہفتے کے دوران بھی کوئی معاہدہ سامنے آ سکتا ہے۔'' اس یقین کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا '' میں صرف اپنی طرف سے ایسا کہہ سکتا ہوں دوسری جانب سے نہیں۔''

دوسری جانب یورپی یونین کے ایک ترجمان مائیکل مان کا کہنا ہے'' مذاکرات کا معاملہ کافی پیچیدہ ہے اور سنجیدہ مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔''