.

ڈاکٹر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد جیل میں خاندان سے پہلی ملاقات

معزول صدر کی اہلیہ اور دو بیٹوں سے برج العرب جیل میں ایک گھنٹے تک گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے معزول صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی اہلیہ اور ان کے دوبیٹوں نے دوسرے بڑے شہر اسکندریہ کے نزدیک واقع ہائی سکیورٹی والی جیل برج العرب میں ان سے ایک گھنٹے تک ملاقات کی ہے۔

3 جولائی کو مسلح افواج کے ہاتھوں برطرفی کے بعد معزول صدر سے ان کے خاندان کی یہ پہلی ملاقات ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ان کی اہلیہ اور دونوں بیٹوں نے انھیں ایک بیگ دیا جس میں ان کے کپڑے ،خوراک ،پھل ،منرل واٹر اور مشروبات تھے۔

مصر کے وزیرداخلہ نے نئے ہجری سال کے آغاز کے موقع پر تمام قیدیوں سے ان کے پیاروں کو ملنے کی اجازت دی تھی۔ڈاکٹر مرسی کی ان کے خاندان سے ملاقات اسی اجازت کے تحت ہوئی ہے اور انھیں ایک دوسرے کی خیریت دریافت کرنے کا موقع مل گیا ہے۔اس کے لیے کوئی خصوصی اجازت نامہ جاری نہیں کیا گیا تھا۔

مصری سکیورٹی فورسز نے ڈاکٹر مرسی کو مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی کے ہاتھوں ان کی برطرفی کے بعد سے کسی نامعلوم مقام پر قید کررکھا تھا۔انھیں گذشتہ اتوار کو قاہرہ میں واقع پولیس اکیڈیمی میں قائم کی گئی خصوصی عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔وہ اپنی معزولی کے قریباً تین ماہ کے بعد پہلی مرتبہ عوام میں نمودار ہوئے تھے۔

انھیں سوموار کو اسکندریہ کے نزدیک واقع برج العرب جیل میں منتقل کیا گیا تھا اور انھوں نے طبیعت ناساز ہونے کی وجہ سے پہلی رات جیل کے اسپتال میں گزاری تھی۔مصری حکام کے مطابق باسٹھ سالہ ڈاکٹر مرسی نے جیل پہنچنے کے بعد بلند فشار خون اور بلڈ شوگر کی شکایت کی تھی۔

وہ مختلف امراض کا شکار ہیں اور انھوں نے اپنے مختصر دورصدارت میں ایک موقع پر صحافیوں کو بتایا تھا کہ وہ ذیابیطس کے مریض ہیں۔؁ 2000ء میں ان کا السر کا آپریشن ہوا تھا اور 2008ء میں ان کے سر کی سرجری ہوئی تھی۔

انھوں نے جیل میں آمد کے موقع پر قیدیوں کے لیے مخصوص لباس پہننے سے انکار کردیا تھا۔اس سے پہلے عدالت میں پیشی کے موقع پر بھی مدعاعلیہان کے لیے مخصوص لباس پہننے سے انکار کردیا تھا اور وہ ججوں سے بلند آواز میں مخاطب ہوتے رہے تھے۔

انھوں نے آغاز ہی میں عدالت کے جج سے مخاطب ہوکر کہا کہ وہ ملک کے آئینی اور قانونی صدر ہیں۔اس لیے ان کے خلاف مقدمہ نہیں چلایا جاسکتا۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اپنی مرضی کے خلاف عدالت میں پیش ہورہے ہیں۔وکلائے صفائی نے مقدمے کی دستاویزات کے مطالعے کے لیے وقت طلب کیا تھا جس پر عدالت نے ان کے خلاف مقدمے کی مزید سماعت 8 جنوری تک ملتوی کردی۔

ڈاکٹرمحمد مرسی اور اخوان المسلمون سے تعلق رکھنے والے چودہ مدعاعلیہان کے خلاف دسمبر 2012ء میں صدارتی محل کے باہر مظاہرین کی ہلاکتوں اور تشدد کی شہ دینے کے الزامات میں مقدمہ چلایا جارہا ہے۔اگر عدالت نے انھیں قصوروار قرار دے دیا تو انھیں عمرقید یا پھر سزائے موت کا سامنا ہوسکتا ہے۔