.

دمشق کے نواح میں واقع قصبے پر شامی فوج کا دوبارہ قبضہ

حزب اللہ اورعراقی شیعہ جنگجوؤں کے ساتھ لڑائی میں شامی باغیوں کو شکست کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی فوج نے لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ اور دوسرے حکومت نواز مسلح جتھوں کی مدد سے دارالحکومت دمشق کے نواح میں واقع قصبے سبینہ پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان نے جمعرات کو بتایا ہے کہ''دمشق کے نواح میں سبینہ باغی جنگجوؤں کا اہم ٹھکانا تھا۔اب شامی فوج کے اس پر قبضے کے بعد دارالحکومت کے جنوبی علاقے میں موجودی باغیوں کا رسدی راستہ عملاً منقطع ہوگیا ہے''۔

درایں اثناء شام کے سرکاری ٹیلی ویژن نے بھی اس قصبے پر فوج کے دوبارہ کنٹرول کی اطلاع دی ہے اور ایک نشریے میں کہا ہے کہ ''ہمارے بہادر فوجیوں نے سبینہ اور اس کے نزدیک واقع گاؤں غزالہ میں دہشت گردوں کو شکست سے دوچار کرنے کے بعد دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا ہے''۔واضح رہے کہ شامی حکومت اورسرکاری میڈیا باغی جنگجوؤں کے لیے دہشت گرد کی اصطلاح استعمال کرتا ہے۔

آبزرویٹری کے مطابق شامی فوج نے نوروز تک لڑائی کے بعد اس قصبے پر قبضہ کیا ہے۔اس دوران اس نے دمشق کے جنوب کی جانب جانے والی سپلائی لائن کو بھی منقطع کردیا تھا۔شامی فوج کو اس محاذ پر لڑائی میں حزب اللہ کے علاوہ حکومت نواز نیم فوجی دستوں نیشنل ڈیفنس فورس اور شامی اورغیرشامی شیعہ جنگجوؤں پر مشتمل ابو الفضل عباس بریگیڈ کی حمایت حاصل تھی۔

رامی عبدالرحمان کا کہنا تھا کہ ''سبینہ میں شہریوں کی ہلاکتوں کا خدشہ ہے کیونکہ ماضی کا یہ تجربہ رہا ہے کہ فوج شہریوں کو گولیاں مار کر موت سے ہم کنار کرنے کے بعد باغیوں پر اس کا الزام عاید کرتی رہی ہے''۔

اس سے چند ہفتے قبل ہی شامی فوج نے دمشق کے نواح میں باغیوں کو شکست دینے کے بعد تین قصبوں حسینیہ ،زیابیہ اور بویدہ پر قبضہ کر لیا تھا۔دارالحکومت سے تعلق رکھنے والے ایک کارکن کا کہنا ہے کہ فوج اب یقیناً پیش قدمی کرے گی۔

رامی عبدالرحمان نے صدر بشارالاسد کی وفادار فوج حالیہ کامیابیوں کو باغیوں کے درمیان پھوٹ کا شاخسانہ قراردیا ہے۔انھوں نے بتایا کہ لڑائی میں دونوں فریقوں کو بھاری جانی نقصان برداشت کرنا پڑا ہے اور دمشق کے جنوب میں ملک کے کسی بھی دوسرے علاقے کی نسبت زیادہ فرقہ وارانہ بنیاد پر جھڑپیں ہوئی ہیں۔

شامی دارالحکومت کے علاقے سیدہ زینب میں،جہاں حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا مزار ہے،ایرانی پاسداران کے فوجیوں اور ان کے تربیت یافتہ حزب اللہ کے جنگجوؤں نے ایک فوجی اڈا بنا رکھا ہے۔ان کے علاوہ شامی فوج کے شانہ بشانہ باغیوں کے خلاف لڑنے والے عراقی جنگجو بھی اسے ایک اڈے طور پر استعمال کررہے ہیں۔