.

لیجنڈ فلسطینی لیڈریاسرعرفات کی زہرخورانی سے موت کی تصدیق

سوئس سائنسدانوں کی تحقیقاتی رپورٹ میں پلونیم زہر کو موت کا سبب قرار دے دیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوئس سائنسدانوں نے زہرخورانی کو لیجنڈ فلسطینی لیڈر یاسرعرفات کی موت کا سبب قرار دے دیا ہے اور انھوں نے اپنی تحقیقات کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ مرحوم کو تابکاری زہر پلونیم سے موت سے ہم کنار کیا گیا تھا۔

سوئس سائنسدانوں نے 108صفحات کو محیط اپنی تحقیقاتی رپورٹ کے تجزیے میں لکھا ہے کہ ''یاسر عرفات کی باقیات کے ٹیسٹوں کے نتائج اس مفروضے کی تائید کرتے ہیں کہ ان کی موت زہریلے مواد پلونیم-210 کے استعمال کے نتیجے میں واقع ہوئی تھی۔

سوئٹرزلینڈ کی واڈیوس یونیورسٹی ہاسپٹل سنٹر کے دس ماہرین کے اس رپورٹ پر دستخط ہیں۔انھوں نے لکھا ہے کہ ''ٹاکسیکالوجیکل اور ریڈیو ٹاکسیکالوجیکل کی نئی تحقیقات کی گئی ہیں۔غیرمتوقع طور پر پلونیم 210 اور جست 210 کے اثرات باقیات کے بہت سے نمونوں میں پائے گئے ہیں''۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یاسرعرفات کی ہڈیوں اور نرم ریشوں (ٹشوز) میں پلونیم کی سطح 20 فی صد زیادہ تھی جس سے میڈیا کے بعض ذرائع کی اس رپورٹ کی بھی تردید ہوگئی ہے کہ مرحوم کی سگریٹ نوشی کی عادت نے ان میں پلونیم کی سطح کو بڑھا دیا ہوگا۔

یاسر عرفات کی بیوہ سوہا نے الجزیرہ ٹیلی ویژن چینل سے بدھ کو نشر ہونے والے انٹرویو میں کہا ہے کہ ''اگر زہرخورانی کی تصدیق ہوجاتی ہے تو یہ ایک عظیم لیڈر کا قتل ہے اور سیاسی جرم ہے۔میں یہ تو نہیں جانتی کہ یہ زہر کس نے دیا تھا لیکن یہ بہت ہی خوفناک ہے''۔

یاسر عرفات کی موت کی تحقیقات کے ذمے دار فلسطینی عہدے دار توفیق طراوی نے منگل کو ایک بیان میں کہا تھا کہ انھیں سوئس لیبارٹری کے نتائج موصول ہوگئے ہیں لیکن انھوں نے ان کو منظرعام پر لانے سے انکار کیا تھا۔فلسطین کی سرکاری خبررساں ایجنسی وفا کے مطابق مرحوم لیڈر کی موت کی تحقیقات کرنے والی روسی ٹیم کی رپورٹ بھی فلسطینی اتھارٹی کو 2 نومبر کو موصول ہوگئی تھی۔

نومبر 2012ء میں یاسرعرفات کے مزار کی قبرکشائی کرکے ان کی باقیات سے 60 نمونے حاصل کیے گئے تھے۔یہ نمونے سوئس ،روسی تحقیقات کاروں اور فرانسیسی ٹیم میں تقسیم کیے گئے تھے تاکہ ان کے جائزے کے بعد اس بات کا تعین کیا جاسکے کہ ان کی موت زہرخورانی سے ہوئی تھی یا اس کا کوئی اور سبب تھا۔

یادرہے کہ مالٹا سے تعلق رکھنے والی سوہا عرفات نے اپنے مرحوم شوہر کی موت کا سبب جاننے کے لیے پیرس کے نواح میں واقع علاقے نانترے میں 31جولائی 2012ء کوحکام کو ایک درخواست دائر کی تھی جس میں یہ کہا تھا کہ ان کے شوہر کی موت تابکاری زہر پلونیم کے استعمال کے نتیجے میں واقع ہوئی تھی اور ان کی ذاتی استعمال کی اشیاء سے اعلیٰ درجے کی زہریلی پلونیم برآمد ہوئی تھی۔اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ ان کا انتقال ممکنہ طور پر اسی زہر کے نتیجے میں ہوا تھا۔

سوہا عرفات نے مغربی کنارے کے شہر رام اللہ میں دفن اپنے خاوند کی قبرکشائی کرکے ان کی باقیات کے ملاحظے کی حمایت کی تھی۔انھوں نے سوئٹزر لینڈ کی لاسین یونیورسٹی کے اسپتال کی ریڈیالوجی لیبارٹری کو باقیات کا ٹیسٹ کرنے کے لیے کہا تھا تاکہ ان کے جسم میں پلونیم کے زہر کی موجودگی اور اس کے نتیجے میں موت واقع ہونے کا تعین کیا جاسکے۔

یاد رہے کہ یاسر عرفات 11نومبر 2004ء کو پیرس کے نواح میں واقع ایک فوجی اسپتال میں انتقال کر گئے تھے۔ان کی موت کے وقت فلسطینی عہدے داروں نے اسرائیل پر الزام عاید کیا تھا کہ اس نے انھیں زہر دے کر موت سے ہم کنار کیا تھا۔فلسطینیوں نے اپنے طور پر بھی 2005ء میں یاسر عرفات کی موت کی تحقیقات کی تھی اور اس میں زہر خورانی ، کینسر یا ایڈز کے نتیجے میں ان کی موت کے امکان کو مسترد کردیا گیا تھا۔

اسرائیل مسلسل ان الزامات کی تردید کرتا چلا آرہا ہے اور اس نے سوہا عرفات اور فلسطینی حکام پر الٹا یہ الزام عاید کیا تھا کہ وہ نوبل انعام یافتہ لیڈر کی موت کی حقیقی وجوہ کو چھپانے کے لیے صہیونی ریاست پر ایسے الزامات عاید کرتے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ پلونیم سخت قسم کا زہر ہے اوراس کا جسم کے ریشوں پر خاص طور پر فوری اثر ہوتا ہے۔ یہ فوجی اور سائنسی حلقوں سے باہر کم ہی استعمال کیا جاتا ہے۔روس کے ایک سابق جاسوس اور پھر ماسکو حکومت کے ناقد الیگزینڈر لیٹوینکو کو اسی زہر سے ہلاک کیا گیا تھا۔2006ء میں ان کی چائے میں اس زہر کو ملا دیا گیا تھا جس کے پینے کے فوری بعد ان کی موت واقع ہوگئی تھی۔