.

145 مصوروں نے اپنے فن پارے شامی پناہ گزینوں کے لیے عطیہ کر دیے

نمائش میں شامل فن پاروں کی قیمت 13 لاکھ ڈالر تک ملنے کا امکان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عرب اور مسلمان ملکوں کے مصوروں اور فنکاروں کی بڑی تعداد نے اپنے فن پارے مفلوک الحال شامی پناہ گزینوں کے بچوں کی امداد کے لیے بطورعطیہ پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس سلسلے میں لبنان کے دارالحکومت بیروت میں فن پاروں کی ایک نمائش کا بھی اہتمام کیا گیا جس میں 145 عرب اور مسلمان فن کاروں کے تیار کردہ فن پاروں اور150 تصویری تخلیقات کو پیش کیا گیا۔

بعد ازاں وہیں پران فن پاروں کی نیلامی کی جائے گی۔ انتظامیہ کو توقع ہے کہ نیلامی میں پیش کیے گئے فن پاروں کے بدلے میں انہیں تیرہ لاکھ ڈالر تک رقم مل سکتی ہے جسے شامی پناہ گزینوں کے بچوں کی فلاح وبہبود پر صرف کیا جائے گا۔

بیروت میں فن پاروں کی نمائش کا اہتمام"سیری آرٹس" فاؤنڈیشن کی جانب سے کیا گیا۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ نمائش میں لبنان، شام، سعودی عرب، عراق، فلسطین، مصر، مراکش، ایران تیونس کے مصوروں نے اپنے ڈیڑھ سو فن پارے عطیہ کیے ہیں۔

فاؤنڈٰشن کی ڈائریکٹر نورہ جنبلاط نے بتایا کہ ان کی تنظیم کی جانب سے عرب اورمسلمان ملکوں کے فن کاروں سے اپنے فن پارے شامی پناہ گزینوں کی مدد کے لیے عطیہ کرنے کی اپیل کی تھی۔ ان کی اپیل پرعرب اورمسلمان ملکوں کےایک سو پینتالیس فن کاروں نے اپنی تخلیقات اورفن پارے عطیہ کیے ہیں۔ اب تک عطیہ کیے جانے والے فن پاروں کی تعداد ڈیڑھ سو تک پہنچ چکی ہے۔ توقع ہے کہ مزید نمونے بھی عطیہ کیے جائیں گے۔ نمائش کے اختتام پر ان فن پاروں کی نیلامی کی جائے گی اوران سے حاصل ہونے والی رقم شامی پناہ گزینوں کے بچوں کی ضروریات پر صرف کی جائے گی۔

خیال رہے کہ بیروت میں فن پاروں کی نمائش میں ہاتھ سے بنائی گئی تصاویر اہم شخصیات کی تصاویر، خوبصورت مناظر کی سینریزاور فوٹو کیمرے کی مدد سے لی گئی نایاب تصاویر شامل ہیں۔

نورہ جنبلاط کا کہنا تھا کہ فن پاروں کی نیلامی کل جمعہ آٹھ نومبر کو بیروت میں ہو گی۔ توقع ہے کہ انہیں اس نیلامی میں تیرہ لاکھ ڈالر تک کی رقم موصول ہوجائے گی، جسے شامی پناہ گزینوں اور ان کے بچوں پرخرچ کیا جائے گا۔