ایرانی جوہری تنازعہ، آج معاہدے کا امکان ہے

جان کیری بھی جنیوا پہنچ رہے ہیں، ایرانی وفد پر امید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایرانی متنازعہ جوہری پروگرام پر جمعہ کے روز شروع ہونے والے مذاکرات کے دوسرے مرحلے پر ایران عالمی طاقتوں کے ساتھ ابتدائی سمجھوتے کے قریب پہنچ گیا ہے۔ ایران نے آج جمعہ کے روز معاہدے پر دستخط ہونے کا امکان ظاہر کیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ بھی آج ہی جنیوا پہنچیں گے۔

اس مرحلے پر یہ امکان پیدا ہو گیا ہے کہ ایران اقتصادی پابندیوں کے اٹھائے جانے کیلیے اپنی بعض جوہری سرگرمیاں سکیڑ لے گا۔

ایران کی طرف سے مذاکرات کرنے والے وفد کے سربراہ عباس عراغچی نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ''سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان اور ان کے ساتھی ملک جرمنی نے ایران کی جانب سے پیش کردہ فریم ورک قبول کر لیا ہے۔''

ایرانی نمائندے نے بعد ازاں اس سلسلے میں مزید پیش رفت کا اظہار اس طرح کیا کہ '' میں سمجھتا ہوں مذاکراتی ٹیمیں اب ایک ڈرافٹ کی تیاری کیلیے آمادہ ہیں۔''اقدامات جس میں ان متعین اقدامات کا ذکر ہو گا ۔'' امکانی طور پر یہ اقدامات ایک مخصوص مدت اور تدریج کے ساتھ کیے جائیں گے۔

عباس عراغچی کا کہنا تھا مذاکرات کا عمل ایک کٹھن کام ہے۔'' تاہم انہوں نے امید ظاہر کی معاہدہ جمعہ کے روز ممکن ہو جائے گا۔

امریکی وزیر خارجہ جنہوں نے حالیہ ہفتے کے دوران عرب ممالک کو ایرانی جوہری پروگرام کے بارے میں یقین دہانی کرائی ہےکہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کی اجازت نہیں دی جائے گی، کے حوالے سے امریکی دفتر خارجہ کے ایک ذمہ دار کا کہنا ہے کہ جان کیری جنیوا پہنچ کر معاہدے کو ممکن بنانے میں مدد دیں گے۔

معلوم ہوا ہے کہ انہیں یورپی یونین کی خارجہ امور کی سر براہ اور اس مذاکراتی عمل کی نگران کیتھرائن آشٹن نے دعوت دی ہے تاکہ وہ معاہدہ میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔

ادھر امریکی صدر براک اوباما نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ''ایران کے ساتھ معاہدے کی صورت میں بھی اسے اقتصادی پابندیوں کے حوالے سے بہت معمولی ریلیف ملے گا، کیونکہ ہمیں ان پر بھروسہ نہیں ہے۔''

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں