.

ایمن الظواہری کیطرف سے القاعدہ گروپوں کے تنظیمی دائرہ کار کا تعین

عراق میں سرگرم القاعدہ گروپ اور شامی گروپ میں تنازعہ چل رہا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری نے شام اور عراق میں میں سرگرم القاعدہ سے منسلک گروپوں کی سرگرمیوں کے بارے میں نئے احکامات جاری کرتے ہوئے گروپ النصرہ فرنٹ کو ہدایت کی ہے کہ وہ آئندہ شام میں القاعدہ کے پرچم تلے رہتے ہوئے کام کرے گا، جبکہ عراقی گروپ کو حکم دیا ہے کہ شام کی خانہ جنگی میں مداخلت نہ کرے۔

اس امر کا اظہار ایمن الظواہری کی طرف سے جاری کردہ ایک تازہ آڈیو پیغام میں کیا گیا ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ حکم القاعدہ کے سربراہ کی جانب سے ماہ جون میں جاری کر دیا گیا تھا، لیکن اس پر عمل زیر التواء تھا۔

اس جاری کیے گئے پیغام کے مطابق ایمن الظواہری نے کہا ہے کہ '' النصرہ گروپ شام میں القاعدہ سے منسلک واحد جہادی گروپ ہے۔ جسے حکم دیا گیا ہے کہ وہ القاعدہ کی مرکزی کمان کو رپورٹ کرے گا اور اب عراق میں القاعدہ گروپ کے زیر نظم کام نہیں کرے گا۔''

اس بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ '' القاعدہ سے منسلک گروپ آئی ایس آئی ایل کو ختم کیا جا رہا ہے جبکہ آئی ایس آئی [ اسلامک سٹیٹ آف عراق] اپنا کام جاری رکھے گی۔''

واضح رہے ماہ اپریل میں ایک تنازعہ پیدا ہو گیا تھا، اور آئی ایس آئی ایل کے لیڈر ابو بکر البغدادی نے دعوی کیا تھا کہ شام میں متحرک گروپ ان کے ماتحت ہے لیکن نصرہ کے کمانڈر نے اس دعوے کو مسترد کر دیا تھا۔

النصرہ فرنٹ کو جنوری 2012 میں قائم کیا گیا تھا اب اسے امریکا نے دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کر رکھا ہے