.

لیبیا: وزیراعظم کے اغوا کی فوٹیج سامنے آ گئی

علی زیدان کو ماہ اکتوبر میں سابقہ باغی گروپ نے اٹھایا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے وزیراعظم علی زیدان کو ماہ اکتوبر کے دوران کچھ دیر کیلیے اغوا کرنے اور یرغمال بنائے جانے کی ویڈیو سوشل میڈیا کے ذریعے منظر عام پر آ گَئی ہے ۔

ویڈیو میں دکھایا گا ہے کہ لیبیا کے سابقہ باغیوں کے ایک مسلح گروپ نے وزیراعظم علی زیدان کو دارالحکومت کے ایک ہوٹل میں ان کے کمرے سے صبح کے وقت اغوا کیا البتہ بعد ازاں انہیں رہا کر دیا گیا تھا۔

لیبیا کے سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں نے جمعہ کے روز پہلی مرتبہ یہ ویڈیو فوٹیج دیکھی ہے جو اب تک ہزاروں لوگ باہم شئیر کر چکے ہین۔ فوٹیج میں علی زیدان سونے کے لباس میں نظر آ رہے ہیں اور انہیں اغوا کاروں نے ہوٹل سے نکالا۔ اس فوٹیج سے لیبیا کی بد امنی کی تصویر بھی واضح ہو جاتی ہے۔

واضح رہے کہ 2011 کے مسلح باغی گروپ دوسال بعد بھی اسی طرح موثر ہیں اور حکومت کو عملا ان کی وجہ سے ایک چیلنج جیسی صورت حال کا سامنا ہے۔ وزیر اعظم علی زیدان کے اغوا کو انقلابیوں کے کنٹرول روم کے ذریعے ہی ممکن بنایا گیا تھا۔

اغوا کار مسلح گروپ نے اس بات کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا کہ حکومت کو لیبیا میں امریکی کمانڈوز کی اس کارروائِی کا پیشگی علم تھا جو القاعدہ کے ذمہ دار ابو انس اللیبی کی گرفتاری کیلیے کی گئی تھی۔

علی زیدان نے اپنی رہائِی کے بعد کہا تھا کہ انہیں اغوا کرنے والوں نے ان پر استعفے کیلیے دباو ڈالا تھا۔ بعد ازاں یہ بھی اطلاعات سامنے آئیں کہ علی زیدان کو ان کی اپنی ہی وزارت داخلہ نے گرفتار کیا تھا۔