.

شامی اپوزیشن: مستقبل میں بشار الاسد کا سیاسی کردار یکسر مسترد

خون سے رنگے ہاتھوں والے کسی حکومتی عہدے دار کا کوِئی کردار نہیں ہو گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی حزب اختلاف کے قومی اتحاد نے اپنے اس مؤقف کا اعادہ کیا ہے کہ صدر بشارالاسد اور ان کے جن دیگر مصاحبین اورارباب اقتدار کے ہاتھ خون سے رنگے ہوئے ہیں،ان کا مستقبل میں کوئی کردار نہیں ہوگا۔

شامی قومی اتحاد(ایس این سی) کے ترجمان خالد الصالح نے اتوار کو استنبول میں ایک نیوزکانفرنس میں کہا کہ ''ان کا اتحاد ملک میں گذشتہ بتیس ماہ سے جاری بحران کے سیاسی حل کے لیے پُرعزم ہے لیکن جب تک ہمارے بعض مطالبات پورے نہیں کیے جاتے،اس وقت تک ہم جنیوا میں مجوزہ مذاکرات میں شرکت نہیں کریں گے''۔

ترجمان نے کہا کہ گذشتہ سال منعقدہ پہلی جنیوا کانفرنس میں چھے اصول وضع کیے گئے تھے۔ان میں پہلا اصول یہ تھا کہ شام میں عبوری حکومت کے قیام کے لیے حقیقی سیاسی عمل شروع کیا جائے گااور ہم اب تک اسی چیز کا مطالبہ کررہے ہیں۔اس میں مزید یہ کہا گیا تھا کہ ''قیدیوں کو رہا کیا جائے،ایک عبوری حکومت تشکیل دی جائے اور شام میں مستقبل کے سیاسی عمل میں بشارالاسد کا کوئی کردار نہیں ہوگا''۔

انھوں نے گذشتہ ماہ لندن میں دوستان شام ممالک کے اعلامیے کا بھی ذکر کیا ہے۔اس میں بھی شامی صدر بشارالاسد کے عبوری حکومت میں کردار کو مسترد کردیا گیا تھا۔

ترجمان نے کہا کہ ان کے گروپ کا ایران کے حوالے سے موقف بڑا واضح ہے۔وہ یہ کہ ایران خانہ جنگی کا شکار ملک سے اپنےتحت تمام ملیشیاؤں کے علاوہ لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ اور عراق کی ابوالفضل عباس بریگیڈ سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں کو واپس بلائے۔اگر وہ یہ کام کرتا ہے تو پھر ہم اس کی جنیوا مذاکرات میں شرکت سے متعلق غور کریں گے۔

انھوں نے بتایا کہ ہم جنیوا دوم کانفرنس میں شرکت کے حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ کرنے سے قبل شام میں باغی جنگجوؤں اور شہریوں سے بھی رابطے میں ہیں اور ان سے مشاورت کررہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق شامی قومی اتحاد جنیوا مذاکرات میں شرکت سے قبل شامی فوج کے خلاف برسرپیکار باغی جنگجوؤں کے گروپوں کی تائید وحمایت حاصل کرنا چاہتا ہے۔

خالد الصالح نے اسد حکومت کی جانب سے باغیوں کے زیرقبضہ علاقوں میں موجود شہریوں کو بھوک کا شکار کرنے کی پالیسی کی مذمت کی۔انھوں نے کہا کہ مستقبل کی حکومت کو شہریوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے پانچ کروڑ ڈالرزماہانہ درکار ہوں گے اور یہ رقم تیل کی آمدن ،اجناس کی فروخت اور اسدی حکومت کے خلاف مزاحمتی تحریک کی حمایت کرنے والے ممالک کی امداد سے پوری کی جائے گی۔

واضح رہے کہ صدر بشارالاسد کی وفادار فورسز کے خلاف برسر پیکار مسلح باغی جنگجو گروپ جنیوا مذاکرات میں شرکت کی مخالفت کررہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اگر ان مذاکرات کے نتیجے میں صدر اسد کی رخصتی نہیں ہوتی ہے تو پھر یہ لاحاصل ہی رہیں گے۔انھوں نے اس مجوزہ کانفرنس میں شرکت کرنے والوں کو خطرناک نتائج کی دھمکی دے رکھی ہے۔

شامی حزب اختلاف بشارالاسد کی رخصتی کے بغیر جنیوا کانفرنس میں شرکت کی مخالفت کررہی ہے۔حزب اختلاف کے قومی اتحاد کے سربراہ احمدالجربا نے نے اگلے روز ملک میں جاری بحران کے خاتمے کے لیے جنیوا میں مجوزہ مذاکرات میں شرکت کے لیے یہ شرط عاید کی ہے کہ ان کے انعقاد سے قبل صدر بشارالاسد کی رخصتی کا ٹائم فریم دیا جائے۔