.

طوائف الملوکی جاری رہی تو بیرونی مداخلت ہوگی:لیبی وزیراعظم

لیبیا تشدد اور دہشت گردی کا ذریعہ بن جاتا ہے تو عالمی برادری خاموش نہیں رہے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے وزیراعظم علی زیدان نے خبردار کیا ہے کہ اگر ملک میں طوائف الملوکی جاری رہی تو غیرملکی طاقتیں ایک مرتبہ پھر فوجی مداخلت کرسکتی ہیں۔

لیبی وزیراعظم نے اتوار کو ایک بیان میں کہا کہ ''بحرقلزم کے خطے کے وسط میں واقع ملک اگر تشدد ،دہشت گردی اور قتل وغارت کا ذریعہ بن جاتا ہے تو عالمی برادری اس سے آنکھیں موندے نہیں بیٹھی رہ سکتی''۔

انھوں نے عراق میں غیر ملکی فوجی مداخلت کی مثال دیتے ہوئے انتباہ کیا کہ لیبیا میں بھی غیرملکی قابض فورسز مداخلت کرسکتی ہیں کیونکہ ان کا ملک ابھی تک اقوام متحدہ کے منشور کے باب ہفتم کے تحت سلامتی کونسل کی منظور کردہ قرارداد کے دائرے میں آتا ہے۔ اس قرارداد میں شہریوں کے تحفظ کے لیے فوجی مداخلت کی اجازت دی گئی تھی۔

علی زیدان نے لیبی شہریوں پر زور دیا کہ وہ ملک میں برسر پیکارمسلح ملیشیاؤں کے خلاف آمادۂ بغاوت ہوجائیں۔ انھوں نے عوام سے کہا کہ انھیں سڑکوں پر آنا چاہیے اور فوج اور پولیس کی تشکیل نو میں مدد کرنی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ ابھی ریاست کی تعمیر نہیں ہوئی، ہمیں اس کے لیے وقت درکار ہے۔ اب پیشہ ورانہ مہارتوں کی حامل سکیورٹی فورسز کی تشکیل کے لیے تربیتی عمل کو تیز کیا جارہا ہے.

واضح رہے کہ لیبیا میں سابق مطلق العنان صدر معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے اور ان کے قتل کے دوسال بعد بھِی صورت حال پرامن نہیں ہوسکی ہے اور مختلف قبائل اور علاقوں سے تعلق رکھنے والے جنگجو گروپوں نے شہروں اور قصبوں میں عملاً اپنا اپنا کنٹرول قائم کررکھا ہے اور لیبیا کی منتخب حکومت کی عمل داری نہ ہونے کے برابر ہے۔ حکومت ان پر قابو پانے یا انھیں کسی سرکاری نظم کے تحت لانے میں ناکام رہی ہے،اس لیے اب منظم پولیس اور فوج کی تشکیل کے لیے وزیراعظم نے لیبی عوام سے مدد وتعاون کی اپیل کی ہے۔

یہ جنگجو گروپ اتنے زورآور اور شتر بے مہار ہیں کہ انھوں نے اکتوبر میں خود وزیراعظم علی زیدان کو دارالحکومت طرابلس میں ان کے ہوٹل سے اغوا کر لیا تھا۔ گذشتہ ہفتے عشرے کے دوران ان جنگجو گروپوں نے دارالحکومت اور ملک کے مشرقی علاقوں میں سکیورٹی فورسز پر متعدد حملے کیے ہیں۔گذشتہ روز ہی دوسرے بڑے شہر بن غازی میں مسلح حملہ آوروں نے ٹریفک پولیس کے دو اہلکاروں کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا تھا۔