مصر نے سمگل شدہ 90 قیمتی نوادرات اسرائیل سے واپس لے لئے

اسرائیل نے مصری نوادرات نیلامی کے لیے پیش کردی تھیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

مصرکی وزارت آثار قدیمہ نے بروقت کارروائی کرکے چوری ہونے والے آثار قدیمہ کے نوے فن پارے اسرائیل سے واپس لیے لیے ہیں۔ مصر کی ان تاریخی نوادرات کو چوری کے بعد اسرائیل لے جایا گیا تھا، جہاں صہیونی حکومت نے انہیں نیلامی کے لیے پیش کردیا تھا۔ مصری حکام کو اس نیلامی کا علم ہوا تو وزارت اخارج نے تل ابیب سے رابطہ کر کے نیلامی رکوانے کا مطالبہ کردیا تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مصر کے نگراں وزیر برائے آثار قدیمہ ڈاکٹر محمد ابراہیم نے بتایا کہ قاہرہ سے چوری ہونے والے تاریخی فن پارے مقبوضہ بیت المقدس میں "العویضہ" نیلام گھر میں رکھے گئے تھے جنہیں فروخت کے لیے پیش کیا گیا تھا۔ جب انہیں مصری تہذیب کے ان نایاب نمونوں کی بیت المقدس میں موجودگی کا پتہ چلا تو وزارت خارجہ نے اسرائیلی حکام سے رابطہ کر کے ان نوادرات کی نیلامی فوری رکوانے کا مطالبہ کیا۔ اسرائیلی حکومت کو بتایا گیا کہ یہ فن پارے مصر سے چوری کرے بیرون ملک سمگل کئے گئے ہیں لہذا تل ابیب انہیں فوری واپس کر دے۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکومت کو دی گئی وارننگ کے جواب میں پہلے حیلے بہانے کیے جا رہے تھے تاہم بعد میں ثبوت فراہم کرنے پر ان کی نیلامی روک دی گئی تھی، جس کے بعد ان نوادرات کو بیت المقدس کے"العویضہ" نیلام گھرسے واپس قاہرہ پہنچایا دیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق مصر سے چوری ہونے والے کل تاریخی فن پاروں کی تعداد 110 ہے۔ ان میں سے 20 فن پارے بیت المقدس میں ہونے والی نیلامی میں فروخت ہوچکے تھے اور نوے کی نیلامی کا عمل جاری تھا، جسے روک لیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں