.

ایرانی جوہری تنازعہ، عالمی طاقتوں میں اختلاف نہیں: جان کیری

ہماری متفقہ تجویز ایران کیلیے فوری طور پر قبول کرنا مشکل تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے اس امر کی تردید کی ہے کہ ایرانی جوہری پروگرام کے حوالے سے ہونے والے جنیوا مذاکرات میں عالمی طاقتوں کے درمیان اختلاف پیدا ہو گیا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ یہ ایران تھا جس نے معاہدے کی تجاویز سے اتفاق نہیں کیا ۔

متحدہ عرب امارات میں اپنے ہم منصب شیخ عبداللہ بن زید النہیان کے ساتھ ایک نیوز کانفرنس کے دوران جان کیری نے کہا '' ہفتے کے روز جنیوا میں عالمی طاقتیں متفق تھیں اور سب نے مل کر تجویز ایران کے سامنے پیش کی اس پر فرانس سمیت تمام کے دستخط تھے، ہم تمام ممالک کی رائے تھی کہ یہ ایک جائز تجویز تھی لیکن ایران نے اس تجویز پر فوری اتفاق نہیں کیا ۔''

انہوں نے کہا'' ایرانی وفد کیلیے ایک متعین بات کو فوری طور پر قبول کرنا مشکل تھا ۔'' جان کیری نے شامی اپوزیشن جماعتوں کے اس فیصلہ کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ"درست سمت پیشرفت کا ایک اچھا فیصلہ ہے اور یہ معاہدات کو پورا کرنے کی دوڑ نہیں ہے بلکہ یہ جمہوری انداز میں معاملات کو طے کرنے کا طریقہ ہے۔ ایران کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے حوالے سے واشنگٹن اپنے عرب دوستوں اور اسرائیل کو ایران کے حوالے سے تحفظات دور کرنے کے لیے کوشاں ہے۔"

قبل ازیں امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے جنیوا میں گروپ چھے اور ایران کے درمیان ہونے والے تین روزہ مذاکرات میں شرکت کی تھی۔ یہ مذاکرات اتوار کوعلی الصباح بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوگئے تھے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ "ہم اپنے اتحادیوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کے خلاف ہونے والی ہر قسم کی بیرونی کارروائیوں کا بھرپور دفاع کریں گے۔ یہ ہے وہ حکمت عملی ہے جس پر عمل کے ہم اپنے اس تزویراتی رشتے کو آگے تک لے جا سکتے ہیں اور ایک خاص لائحہ عمل طے کر سکتے ہیں