.

حلب کے قریب ائِربیس پر پھر سرکاری فوج کا قبضہ

لڑائی تل آرن میں پھیل گئی، 32 فوجی اور 63 باغی ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کی سرکاری افواج نے شیعہ ملیشیا حزب اللہ کی مدد سے شام کے شمالی شہر حلب سے متصل فوجی ائیر بیس 80 کا قبضہ ایک مرتبہ پھر باغیوں سے چھین لیا ہے۔ تاہم ابھی لڑائی جاری ہے۔ اس جمعہ کے روز سے بیس 80 کے قبضے کیلیے شروع ہونے والی لڑائِی میں دونوں اطراف کا اب تک بھاری جانی نقصان بھی ہوا ہے ۔

تفصیلات کے مطابق سٹریٹجک اہمیت کے حا مل حلب کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب واقع فوجی ائِربیس کے قبضے کیلیے بشار الاسد فورسز کی طرف سے جاری کوششیں ابتدائی طور پر کامیاب رہی تھی۔ لیکن اگلے روز ہفتے کے دن باغی فورسز جن میں القاعدہ کے حامی عسکری گروپوں کی موجودی بھی تھی بشار فوج اور حزب اللہ سے یہ قبضہ چھڑانے میں کامیاب ہوگئیں۔

بشار الاسد کی فوج اور حامیوں سے قبضے کی اس جنگ میں ہفتے کے روز تک باغیوں کے 33 افراد جبکہ سرکاری فوج کے 20 اہلکار مارے گئے تھے۔ اب تک اس چوتھے روز میں داخل لڑائی کی وجہ سے مجموعی طور پر 95 ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔ ان میں 63 باغی شامل ہیں جن میں 20 کے قریب اسلام پسند جنگجو ہیں، جبکہ 32 سرکاری فوجی اور ان کے ساتھی بھی ما رے گئے ہیں۔

انسانی حقوق کیلیے قائم آبزر ویٹری کی فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق لڑائِی کا دائرہ ائیر بیس سے تل آرن تک پھیل گیا ہے ۔ جہاں باغیوں کا مضبوط گڑھ ہے ۔ تل آرن کا شہر مشہور حلب شہر سے تقریبا تین کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

شام کے سرکاری ٹی وی کے مطابق سرکاری فوج نے اتوار کو ائیر بیس کا قبضہ دوبارہ حاصل کر لیا ہے۔ اس قبضے کی آبزرویٹری نے بھی تصدیق کی ہے تاہم کہا ہے کہ ابھی لڑائی ختم نہیں ہوئِی ہے۔

واضح رہے سنی باغیوں نے ائیر بیس 80 ماہ فروری میں سرکاری کنٹرول سے آزاد کرا لیا تھا۔ لیکن حالیہ چار دنوں میں اس کا قبضہ تین بار متحارب گروپ ایک دوسرے سے چھیننے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ اسی طرح حلب شہر کا بیشتر حصہ گزشتہ برس ماہ جولائی سے باغیوں کے کنٹرول میں ہے۔

دمشق میں موجود ذرائع کا کہنا ہے کہ بیس 80 کا قبضہ سرکاری فوج کے پاس رہا تو حلب کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے ایک مرتبہ پھر کمرشل پروازیں شروع ہو سکیں گی کیونکہ ائیر لائن کو باغیوں کی طرف سے پچھلے سال دسمبر میں نشانہ بنائے جانے کے بعد کمرشل پروازوں میں سے بیشتر بند ہو چکی ہیں۔