.

غزہ: برطانوی تعلیم یافتہ خاتون حماس حکومت کی ترجمان مقرر

رفح سے تعلق رکھنے والی اسراء یارک شائر کے لب ولہجے میں انگریزی بولتی ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

غزہ کی پٹی میں حکمراں فلسطینی جماعت حماس نے پہلی مرتبہ برطانیہ کی تعلیم یافتہ ایک دوشیزہ کو اپنی ترجمان مقرر کیا ہے۔ وہ غیرملکی میڈیا کو حکومت کی کارکردگی اور سرگرمیوں کے بارے میں بریفنگ دیا کریں گی۔

حماس کی نئی ترجمان اسراء المدلل نے اعلیٰ تعلیم برطانیہ سے حاصل کی ہے۔ وہ یارک شائر کے لہجے میں انگریزی بولتی ہیں۔ وہ اسلامی تحریک مزاحمت کی رکن تو نہیں مگر وہ روایتی سرپوش اوڑھتی ہیں۔البتہ میک اپ کرتی ہیں،غیر اسلامی موسیقی سنتی ہیں۔وہ مخالف جنس کے افراد سے ہاتھ بھی ملا سکتی ہیں لیکن حماس اس قسم کے کردار کی مخالف رہی ہے۔

اسراء المدلل نے اسی ماہ نئی ذمے داریاں سنبھالی ہیں۔وہ مصر میں پیدا ہوئی تھیں لیکن وہ فلسطینی قومیت کا حامل تھیں۔وہ غزہ کی پٹی کے جنوبی قصبے رفح میں ایک مہاجر کیمپ میں رہتی ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے برطانیہ چلی گئی تھیں جہاں وہ شمالی شہر بریڈفورڈ میں اپنے برطانوی شہری بھائی کے ساتھ رہتی رہی تھیں۔انھوں نے برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''یہ میری زندگی میں ایک وقفہ ہے۔اس کے بعد میں قانون کی تعلیم کی تکمیل کے لیے بریڈفورڈ،اسکاٹ لینڈ یا پھر لندن یونیورسٹی جارہی ہوں''۔

غزہ میں حماس حکومت کے ترجمان اعلیٰ ایہاب الغصین نے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ اسراء المدلل مغربی میڈیا کے ساتھ اچھے تعلقات کار قائم کرلیں گی۔تاہم نئی خاتون ترجمان نے وضاحت کی ہے کہ وہ اسرائیلی صحافیوں کی فون کالز نہیں سنیں گی۔

واضح رہے کہ حماس نے 2007ء سے اپنی متحارب فلسطینی جماعت فتح کے تحت سکیورٹی فورسز کے ساتھ مختصر خانہ جنگی کے بعد غزہ میں اپنی حکومت قائم کرلی تھی۔حماس مغربی ممالک کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے اور تشدد کی مذمت سے متعلق مطالبات کو مسترد کرچکی ہے۔اسے امریکا اور یورپی یونین یک طرفہ طور پر دہشت گرد خیال کرتے ہیں۔

ماضی قریب میں مغربی میڈیا کے بعض ذرائع اپنی جہالت یا ہٹ دھرمی کی بنا پر اہل سنت سے تعلق رکھنے والی اس فلسطینی تنظیم کا ناتا شیعہ ایران سے بھی جوڑتے رہے ہیں اور دنیا کو یہ باور کراتے رہے ہیں کہ حماس کے ایران کے ساتھ گہرے تعلقات استوار ہیں اور وہ اس کی پشتی بانی کررہا ہے لیکن حماس کی قیادت نے ایران کے اتحادی شامی صدر بشارالاسد کو ان کے ملک میں جاری خانہ جنگی کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنایا تھا جس پر ایران حماس سے ناراض ہوگیا تھا اور ان دونوں کے گہرے تعلقات کا بھانڈا بھی پھوٹ گیا تھا۔

غزہ کے پڑوس میں واقع مصر میں مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی کے ہاتھوں جولائی میں اخوان المسلمون سے تعلق رکھنے والے منتخب جمہوری صدر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد سے حماس کے اس ملک کے ساتھ بھی تعلقات کشیدہ ہوچکے ہیں کیونکہ فلسطینی تحریک مزاحمت اپنی مادر جماعت اخوان المسلمون کی زبردست حامی اور مؤید ہے۔