مصر: عدالت کا ہنگامی حالت اور کرفیو ختم کرنے کا حکم

عبوری حکومت کو فیصلے پر عمل درآمد کے لیے تحریری نقل کا انتظار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

مصر کی ایک عدالت نے عبوری حکومت کو گذشتہ تین ماہ سے نافذ ہنگامی حالت اور کرفیو کو آج منگل سے ختم کرنے کا حکم دیا ہے۔حکومت کے مؤقف کے مطابق ہنگامی حالت اور کرفیو کی مدت 14 نومبر کو ختم ہورہی ہے۔

عبوری حکومت نے عدالت کے اس فیصلے کے بعد ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ اس کا احترام کرتی ہے لیکن اس پر عمل درآمد سے قبل اسے سرکاری نوٹی فکیشن کا انتظار ہے۔عبوری کابینہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے عدالت کے فیصلے پر عمل درآمد کا عزم کررکھا ہے۔

ایک عدالتی ذریعے کا کہنا ہے کہ حکومت نے 14 اگست کو نافذ کردہ کرفیو اور ہنگامی حالت کے نفاذ کے بعد 12 ستمبر کو اس کی مدت میں دوماہ کی توسیع کردی تھی۔اس لیے اب اس کی آخری تاریخ 12 نومبر ہونی چاہیے 14 نومبر نہیں جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ ہنگامی حالت کے نفاذ کی مدت جمعرات کو ختم ہوگی۔

مصر کی سب سے منظم جماعت اخوان المسلمون سے ماضی میں تعلق رکھنے والے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی برطرفی کے خلاف ملک گیر مظاہروں کے بعد مسلح افواج کے تحت عبوری حکومت نے 14 اگست کو ہنگامی حالت نافذ کردی تھی۔

ہنگامی حالت کے نفاذ سے مصری حکام کو لوگوں کو وارنٹ کے بغیر گرفتار کرنے کا اختیار مل گیا تھا اور سکیورٹی فورسز کے اہلکار گھروں پر چھاپے مار کر ان کی تلاشی لے سکتے تھے۔

اس کے نفاذ سے قبل سکیورٹی فورسز نے دارالحکومت قاہرہ میں برطرف صدرمحمد مرسی کے ہزاروں حامیوں کے دو دھرنوں کو خونریز مسلح کارروائی کے ذریعے ختم کردیا تھا۔سکیورٹی فورسز کی قاہرہ میں اس کارروائی کے بعد ملک بھر میں ہنگامے پھوٹ پڑے تھے اور ڈاکٹر مرسی کے حامیوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھیں۔

عبوری حکومت کے اس اقدام کے بعد مصری سکیورٹی فورسز نے قاہرہ میں برطرف صدر محمد مرسی کے حامیوں کے دو دھرنوں کے خلاف کریک ڈاؤن کارروائی کی تھی جس میں کم سے کم دو ہزار مظاہرین مارے گئے تھے۔اس خونریز کریک ڈاؤن کے ردعمل میں سکیورٹی فورسز اور گرجا گھروں پر حملوں کا ایک سلسلہ شروع ہوگیا تھا جن میں اب تک سیکڑوں افراد مارے جاچکے ہیں۔

مصری فورسز نے قاہرہ میں رابعہ العدویہ اسکوائر اور النہضہ اسکوائر میں برطرف صدر کے حامیوں کے احتجاجی دھرنوں کو ختم کرانے کے لیے فوجی طاقت کا بے مہابا استعمال کیا تھا اور ہیلی کاپٹروں ،بکتر بند گاڑیوں اور بلڈوزروں کے ذریعے اخوان کے احتجاجی کیمپوں کو تہس نہس کردیا تھا۔

آغاز میں کرفیو کا دورانیہ شام سات بجے سے صبح سات بجے تک تھا لیکن بعد میں اس کو کم کرکے رات ایک بجے سے صبح پانچ بجے تک کردیا گیا تھا کیونکہ قاہرہ اور دوسرے بڑے شہروں کے کاروباری حلقوں اور تاجر برداری نے یہ شکایت کی تھی کہ کرفیو کے نتیجے میں ان کے کاروبار ٹھپ ہو کر رہ گئے ہیں۔

شہریوں کے اس احتجاج کے بعد کابینہ نے 25 اکتوبر کو ملک میں گذشتہ دوماہ سے نافذ رات کے کرفیو کے وقت میں کمی کردی تھی اور رات کو کرفیو کا دورانیہ ایک بجے سے صبح پانچ بجے تک چارگھنٹے کردیا گیا تھا جبکہ جمعہ کی رات اس کادورانیہ شام سات بجے سے صبح پانچ بجے تک دس گھنٹے کے لیے کردیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ جمعہ مصر میں اختتام ہفتہ کا آغاز ہے اور ؁ 2011ء کے بعد سے دارالحکومت قاہرہ اور دوسرے شہروں میں جمعہ ہی کو انقلاب نواز اور حکومت کے مخالفین بڑے مظاہرے کرتے رہے ہیں۔گذشتہ دو ڈھائی ماہ کے دوران برطرف صدر محمد مرسی کے حامی جمعہ کے روز حکومت کے خلاف احتجاجی ریلیاں نکالتے رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں