.

اسرائیل مکانوں کے ٹینڈرز منسوخ کرے، ورنہ مذاکرات ختم: محمود عباس

نیتن یاہو نے یہودیوں کے لیے مکانوں کی تعمیر کا منصوبہ منسوخ کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی صدر محمود عباس نے اسرائیل کو دھمکی دی ہے کہ اگر اس نے دریائے اردن کے مغربی کنارے کے علاقے میں یہودی آبادکاروں کو بسانے کے لیے بیس ہزار نئے مکانوں کی تعمیر کے ٹینڈرز منسوخ نہ کیے تو وہ امن عمل کو ختم کردیں گے۔

فلسطینی اتھارٹی کے اعلیٰ مذاکرات کار صائب عریقات نے فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ انھیں صدر محمود عباس نے عرب لیگ اور مشرق وسطیٰ کے بارے میں گروپ چار میں شامل امریکا ،یورپی یونین ،اقوام متحدہ اور روس کو اس الٹی میٹم سے آگاہ کرنے کی ذمے داری سونپی ہے۔

صائب عریقات کے مطابق صدر عباس نے اپنے انتباہ میں کہا ہے کہ ''اگر اسرائیل یہودی آبادکاروں کے لیے اپنے منصوبے سے دستبردار نہیں ہوتا تو پھر امن عمل کو ختم کرنے کے لیے باضابطہ طور پر اعلامیہ جاری کردیا جائے گا''۔

اسرائیل نے حال ہی میں امریکا اور فلسطین کے انتباہ کے باوجود یہودی آبادکاروں کو عرب سرزمین پر بسانے کے لیے ''ریکارڈ'' بیس ہزار نئے مکانات کی تعمیر کرنے کا اعلان کیا ہے اور اس مقصد کے لیے اس نے ٹینڈرز بھی جاری کردیے ہیں۔

اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان امریکا کی ثالثی میں جولائی میں تین سال کے تعطل کے بعد امن مذاکرات بحال ہوئے تھے لیکن تین ماہ سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود ان میں کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوسکی ہے اور اب صہیونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی جانب سے یہودی بستیوں کی تعمیر پر اصرار کی وجہ سے یہ مذاکرات کسی نتیجے پر پہنچتے نظر نہیں آتے۔

درایں اثناء یہ اطلاع سامنے آئی ہے کہ نیتن یاہو مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی القدس میں یہودی آبادکاروں کے لیے نئے مکانوں کی تعمیر کے منصوبے سے دستبردار ہوگئے ہیں۔

ایک سرکاری اعلان کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں مغربی کنارے اور یروشلم کے مشرق میں نئی یہودی بستیوں کا منصوبہ واپس لے لیا ہے۔ واپس لیے جانے والے اس منصوبے کے تحت دو ہزار سے زائد گھر تعمیر کرنے کی تیاری تھی۔

اسرائیل میں نئی یہودی بستیوں کے خلاف سرگرم گروپ ''اب امن'' نے کہا ہے کہ گزشتہ ماہ اسرائیلی حکومت نے یہودی بستیاں بنانے کے جس نئے منصوبے کا اعلان کیا تھا وہ ابھی قریب العمل نہیں تھا۔ تاہم ''اب امن'' نام کے اس گروپ نے تصدیق کی ہے کہ مغربی کنارے میں 19786 اور مشرقی یروشلم میں 4000 نئی یہودی بستیاں بنانے کے منصوبے اس بات کی چغلی کھاتے ہیں اسرائیل اس حوالے سے سنجیدہ ہے۔

''اب امن'' گروپ کا کہنا کہ اسرائیل کا نیا تعمیراتی منصوبہ اس لیے بھی بہت حساسیت کا حامل ہے کہ مجوزہ نئی بستیاں یروشلم اور رام اللہ کے درمیان ایک سینڈوچ بن کر رہ جائیں گی۔

نیز اسرائیل کی جانب سے ان مجوزہ بستیوں کی تعمیراتی منصوبے کیلیے ٹینڈر جاری اس امر کا ثبوت ہے کہ اسرائیل قیام امن کیلیے مذاکرات کا موقع ضائع کرنا چاہتا ہے۔ ''اب امن '' کے مطابق اسرائیل نے یروشلم کے ای ون علاقے میں 1200 اضافی گھروں کی تعمیر کیلیے ٹینڈرجاری کر دیے تھے ۔

اس بارے میں اسرائیلی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے بڑی کاری گری سے اپنے منصوبوں کو آگے پیچھے کیا ہے کیونکہ ان منصوبوں کی وجہ سے بین الاقوامی برادری کے ساتھ ایک نئے اختلاف کی راہ ہموار ہو گئی تھی۔

سرکاری طور پر جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے ایک ایسے وقت میں جب اسرئیل کو ایرانی جوہری پروگرام کے سلسلے میں مدد کی ضرورت ہے ان یہودی بستیوں پر اصرار نقصان دہ عمل ہو سکتا ہے، اس لئے منصوبہ واپسی کا تعلق محمود عباس کی دھمکی سے زیادہ خود اسرائیل کی بین الاقوامی ضرورت کا مرہون منت ہے۔

واضح رہے مغربی کنارا، مشرقی یروشلم اور غزہ ایسے علاقے ہیں جن پر اسرائیل نے 1967 میں قبضہ کیا تھا، اس لیے عالمی برادری اور فلسطینی ان علاقوں کو یہودیانے کیخلاف ہیں۔